بنگلہ دیش میں لیبر قوانین میں خواتین محنت کشوں کا استحصال
ڈھاکہ ( لیبر نیوز فارن ڈیسک) عالمی یومِ خواتین کے موقع پر مطابق بنگلہ دیش کے لیبر قوانین میں موجود صنفی خلیج خواتین محنت کشوں کے لیے بڑی رکاوٹ بن گئی ہے۔ بنگلہ دیش لیبر ایکٹ 2006 میں کئی ترامیم کے باوجود خواتین کو زچگی کے فوائد، یکساں اجرت اور کام کے محفوظ ماحول کے حصول میں قانونی پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔
وومن لیبر یونین کے مطابق ٹیکسٹائل اور دیگر صنعتی شعبوں میں لاکھوں خواتین ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، مگر انہیں مردوں کے مقابلے میں کم اجرت اور غیر رسمی شعبے میں سماجی تحفظ کی کمی کا سامنا ہے
لیبر ماہرینِ قانون نے زور دیا ہے کہ جب تک لیبر قوانین کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق صنفی بنیادوں پر منصفانہ نہیں بنایا جاتا، خواتین کی معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا