پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین اور قانونی چارہ جوئی کا سوال
تحریر ( عارف روہیلہ ) معاملہ سادہ ہے مگر الجھایا جا رہا ہے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے ریٹائرڈ ملازمین غیر یقینی کی کیفیت میں ہیں حقوق کے بارے میں سوالات موجود ہیں اور تحریری ضمانت بھی واضح نہیں مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ جو لوگ ان کے نمائندہ بنے پھرتے ہیں وہ قانونی راستہ کیوں اختیار نہیں کر رہے؟
اگر مسئلہ واقعی آئینی نوعیت کا ہے تو آئینی درخواست کہاں ہے؟ اگر سروس رولز کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو پٹیشن کیوں فائل نہیں ہوئی؟ اگر میڈیکل اور پینشن خطرے میں ہیں تو حکم امتناع حاصل کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ کیا صرف پریس کانفرنس ہی آخری ہتھیار رہ گیا ہے؟
یہ سارا منظر کسی ایسے بازار جیسا لگتا ہے جہاں شور زیادہ ہو اور خریدار کم ہر روز ایک نئی کمیٹی ایک نیا اعلامیہ اور ایک نئی ویڈیو سامنے آتی ہے مگر جب عملی اقدام کی بات آئے تو قدم پیچھے ہٹا لیے جاتے ہیں کیا یہ قیادت ہے یا محض نمائش؟ پاکستان میں ایسی کئی نظیریں موجود ہیں
پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین نے جب تنخواہوں اور پنشن کا معاملہ اٹھایا تو قانونی دروازہ کھٹکھٹایا پاکستان ریلوے کے پنشنرز نے بھی یہی راستہ اختیار کیا وہاں کم از کم مقدمہ تو درج ہوا اور ریاست کو جواب دہ ہونا پڑا یہاں سوال یہ ہے کہ اگر مسئلہ اتنا ہی سنگین ہے تو قانونی جنگ سے گریز کیوں کیا جا رہا ہے؟
منطقی بات یہ ہے کہ جس کے پاس مضبوط کیس ہو وہ قانون کا سہارا لینے سے نہیں گھبراتا اگر کسی کو یقین ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق سلب ہو رہے ہیں تو وہ اجتماعی پٹیشن دائر کرے ورنہ بار بار مائیک کے سامنے کھڑے ہو کر صرف بیانات دینا کیا ثابت کرتا ہے؟
یہ طرز عمل اس قصے جیسا ہے جس میں کچھ لوگ دریا کے کنارے کھڑے ہو کر شور مچاتے رہتے ہیں کہ پانی گندا ہے مگر کوئی ایک شخص بھی نمونہ لے کر لیبارٹری نہیں بھیجتا شور سے سچ ثابت نہیں ہوتا بلکہ دلیل اور ثبوت سے ہوتا ہے
ریٹائرڈ ملازمین کا چہرہ دکھا کر اگر کوئی اپنا قد بڑھانا چاہتا ہے تو یہ اخلاقی طور پر درست نہیں بزرگ پنشنر کسی کی سیاسی سیڑھی نہیں ہیں وہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ادارے کو کھڑا رکھا ان کے نام پر سودے بازی کی بو آئے تو سوال اٹھانا فرض بنتا ہے
اب وقت ہے کہ تقریروں سے آگے بڑھا جائے اگر نیت صاف ہے تو وکیل مقرر کریں دستاویز جمع کریں اور باقاعدہ کیس دائر کریں ورنہ کھلے دل سے اعتراف کریں کہ مقصد صرف دباؤ ڈال کر کچھ رعایت لینا ہے نہ کہ مستقل حل تلاش کرنا یہ تحریر ایک دعوت ہے کہ جو بھی خود کو نمائندہ کہتا ہے وہ عملی ثبوت دے اور پیش رفت عوام کے سامنے رکھے