ٹھیکیداری نظام کی آڑ میں مزدور کا استحصال نہیں چلے گا، سندھ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ
کراچی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک) سندھ ہائی کورٹ نے ٹھیکیداری نظام کے حوالے سے ایک تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ادارے میں مستقل نوعیت کے کام کرنے والے ملازمین کو تھرڈ پارٹی معاہدے کی بنیاد پر ان کے بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے
جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ان درخواستوں کو مسترد کر دیا جو نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کے ایک برطرف ملازم کی بحالی کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھیں
عدالت نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے کہ یہ موقف غلط ہے کہ ٹھیکیدار کے ذریعے بھرتی ملازم ادارے کا حصہ نہیں ہوتا؛ اگر کام مستقل نوعیت کا ہے تو وہ تمام مراعات کا حقدار ہے
سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ادارے ٹھیکیداری کی آڑ لے کر مزدور دشمن پالیسیاں نہیں اپنا سکتے۔ اس فیصلے سے ان ہزاروں ورکرز کو حوصلہ ملا ہے جو ٹھیکیداری نظام کی وجہ سے عدم تحفظ کا شکار تھے