مزدوروں کی جنگ اور معاشی پہلو

تحریر ( سید عارف نوناری ) کارل مارکس نے طبقاتی نظام میں مزدور کو منافع کا حق دار قرار دیا ہے مزدور ملک کی معیشت کی مضبوطی اور ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اگر مزدور اور کسان کا وجود نہ ہوتا تو شاید زندگی رک جاتی پوری دنیا میں مزدور کے حقوق کی بات کی جاتی ہے لیکن مزدور کی زندگی میں خوشحالی اور ان کے خاندان کی بہتر ی کے لیے عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں

دنیا بھر کے سیاسی اور معاشی نظام میں مزدور نے ہمیشہ مشکلات برداشت کی ہیں ان کے بچے ہم سے زندگی کی ضروریات سے کم درجہ پر ہیں جب ہم صبح سویرے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو روز سڑکوں پارکوں اور گلیوں میں مزدوروں کو بے بس دیکھتے ہیں وہ روزی روٹی کے لیے سائیکلوں پر بوجھ لادے کھڑے ہوتے ہیں اور سارا دن انتظار کے بعد کمائے بغیر گھروں کو واپس چلے جاتے ہیں

ان کے حقوق کی بات کریں تو نہ تو بہتر طریقہ سے لیبر کورٹ میں ان کو انصاف ملتا ہے اور نہ ان کے بچے اور خاندان کے افراد زندگی کی خواہشات پوری ہوتے دیکھتے ہیں وہ اندر کی خواہشات لیے منوں مٹی کے نیچے چلے جاتے ہیں پاکستان میں ان کے حقوق کا تحفظ نہیں مزدور کی مزدوری بہت کم ہے اور اتنی مہنگائی میں خاندان کی ضروریات اور زندگی کی بقا مشکل ہے

پنجاب حکومت نے اگرچہ کچھ سہولیات رجسٹرڈ مزدوروں کو دے رکھی ہیں ان کے لیے پنجاب بھر میں ورکرز ویلفیئر سکول قائم ہیں جہاں فری تعلیم اور کتابیں بھی دی جاتی ہیں مزدوروں کی بچیوں کے لیے شادی فنڈز بھی دیا جاتا ہے اور ان کے بچوں کے لیے اعلی تعلیمی اداروں میں فری تعلیم بھی ہے لیبر کالونیز بھی ان کے لیے بنائی گئی ہیں لیکن اتنا کچھ کافی نہیں

مزدور کا پاکستان میں معیار زندگی بہتر کرنے کی ضرورت ہے میڈیکل کے لیے سوشل سیکیورٹی ہسپتال بھی قائم ہیں لیکن مزدور پھر بھی مشکلات کا شکار ہے یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں مزدور کے حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے ان کو شہری کے برابر حقوق حاصل ہیں یورپی اور ترقی یافتہ ممالک میں ان کو نچلے درجے کا تصور نہیں کیا جاتا پاکستان میں معاملات اس کے الٹ ہیں اور مزدور کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے برابر کے حقوق نہیں ہیں

بے روزگاری انتہا کو پہنچ چکی ہے مہنگائی اتنی شدت اختیار کر چکی ہے کہ بڑے مزدور خاندان پر مشتمل کرائے کے مکان میں رہنا بچوں کو تعلیم دینا اور ضروریات زندگی پوری کرنا انتہائی مشکل ہے فیکٹریوں میں حفظان صحت نہ ہونے کے برابر ہے جس کی وجہ سے مزدوروں اور فیکٹری ورکرز بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں

ان مزدوروں کو اچھی زندگی گزارنے کے لیے آگاہی سیشن بہت کم دیے جاتے ہیں لیبر و انسانی وسائل منسٹری کی پالیسیوں پر عمل درآمد نہیں ہوتا مزدور اور کسان معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور ملک کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں زراعت کے شعبہ سے منسلک کسان بھی مزدوری کرتا ہے کسان فصل اگاتے ہیں اور پورا ملک اجناس کھاتا ہے کسانوں یعنی مزدوروں کے ساتھ ان فصلوں کی سرکاری قیمتیں متعین کر کے جو سلوک کیا جاتا ہے انتہائی ظلم ہے کسی بھی ملک کی معیشت کا انحصار اس کے مزدوروں اور کسانوں کی محنت پر ہے ہمیں ان کی فلاح و بہبود کے لیے نہ صرف انفرادی سطح بلکہ قومی سطح پر بھی کام کی ضرورت ہے بھٹوں پر کام کرنے والے مزدور پر تشدد کیا جاتا ہے بے شمار ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں

مزدور بھی اس معاشرہ کا اہم حصہ ہیں سیاست دان الیکشن لڑتے ہیں تو وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مزدوروں کی اجرت میں اضافہ کیا جائے گا ان کے بچوں کے معیار کو عام بچوں کی طرز زندگی پر لایا جائے گا لیکن برسر اقتدار پارٹیاں ایسا نہیں کرتیں بلکہ مزدوروں کے حالات زندگی نہ کبھی بہتر ہوئے ہیں اور نہ ان کی اجرت میں مہنگائی کے مطابق اضافہ ہوا ہے یورپی ممالک میں پھر بھی اجرت میں اضافہ ضروریات کے مطابق کیا جاتا ہے

چائلڈ لیبر اسی وجہ سے ہے کیونکہ مزدور کا اتنی تھوڑی اجرت میں گزارا مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان کے بچے مزدوری پر مجبور ہوتے ہیں پاکستان میں بہت سے غیر سرکاری ادارے مزدوروں کی فلاح و بہبود کو اپنے منشور کا حصہ بنائے ہوئے ہیں بین الاقوامی ادارے جیسے آئی ایل او پوری دنیا کے مزدوروں کے حقوق کی پاسداری میں مصروف رہتا ہے

پاکستان میں اب معیشت کی صورت حال بڑی تشویش ناک ہے لاکھوں مزدور مزدوری کیے بغیر پریشانی کی زندگی بسر کر رہے ہیں بے روزگاری اتنی ہے کہ زندگی کی بقا مشکل ہو گئی ہے اور کسان بھی پریشان ہے کسان بھی مزدور طبقہ میں شامل ہے کیونکہ وہ کھیتی باڑی اور سارا سال محنت کرتا ہے اور اس کو معاوضہ اپنی لاگت سے کم ملتا ہے اس کے حالات بھی مزدور جیسے ہیں اصل کام مزدور کے حالات کی سٹڈی کر کے لائحہ عمل تیار کرنے کا ہے فیکٹریوں میں ایس او پیز پر عمل نہیں کیا جاتا

جس سے مزدور کو مناسب ماحول نہیں ملتا مزدور طبقہ کا خاندان سالوں سے اسی طبقہ میں ہے اور ان کی آئندہ نسلیں بھی اس سے نہیں نکل پائیں اشرافیہ اور فیکٹری مالکان نے یہ محسوس ہی نہیں کیا کہ جس مزدور کی وجہ سے وہ منافع حاصل کرتے ہیں ان کے حقوق و مسائل کا تحفظ کرنا بھی ان کے فرائض میں شامل ہے ریاست کو مزدور کو عزت دینی چاہیے تاکہ وہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کرنے میں بھرپور کردار ادا کر سکے