مزدور اصلاحات اور ڈیجیٹل دور کے چیلنجز
تحریر (اسد اللہ فیض ) آئی ایل او اقوام متحدہ کا سب سے پرانا ادارہ ہے جس کے ایک سو نوے کنونشنز ہیں جن میں سے چھتیس کنونشنز کی پاکستان نے توثیق کر رکھی ہے مزدوروں کے حقوق و تحفظ کے حوالے سے سب سے پہلے شکاگو کے مزدوروں نے جدوجہد کی جس میں ان پر بدترین مظالم ڈھائے گئے
مگر یہ جدوجہد بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی اور آج تک مزدوروں کے حوالے سے دنیا بھر میں جو کام ہوا ہے اس کا کریڈٹ شکاگو کے ان مزدوروں کو ہی جاتا ہے ایک بات قابل ذکر ہے کہ آج بھی انڈسٹریز ایکٹ شاپ ایکٹ و دیگر قوانین پرانے ہی چل رہے ہیں
یہ قوانین آج بھی موثر ہیں سنہ دو ہزار کے بعد سے نئے معاملات نظر آتے ہیں دنیا میں لیبر و دیگر معاملات کے حوالے سے نئی چیزیں سامنے آئی ہیں
ورکرز کی بحالی ان کی بہبود کام کی جگہ کا ماحول پیشہ وارانہ تحفظ چائلڈ لیبر کا خاتمہ ڈومیسٹک لیبر و ہوم بیسڈ ورکرز سمیت دیگر کے حوالے سے قانون سازی سے نئے باب کا آغاز ہوا ہے اب دنیا ڈیجیٹلائزیشن کی جانب بڑھ رہی ہے
لہٰذا سائبر سیف سپیس فری لانسنگ ورک فرام ہوم و دیگر معاملات کو بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کس طرح آئی ٹی و اس سے منسلک شعبوں میں کام کرنے والوں کے حقوق کو تحفظ دیا جا سکتا ہے ایک بات تو واضح ہے کہ جتنی بھی قانون سازی ہوئی ہے یا ہو رہی ہے یا کی جائے گی ان سب کا مقصد مزدوروں کی سوشل پروٹیکشن ہے کرونا وباء کے دوران یہ محسوس ہوا کہ ڈیٹا نہ ہونے کی وجہ سے کمزور طبقات تک امداد پہنچانا مشکل ہے لہٰذا سوشل پروٹیکشن کے لیے ایسی ڈائریکٹری ہونی چاہیے جس میں تمام مزدوروں کا ریکارڈ موجود ہو
گزشتہ ایک دہائی میں مزدوروں کے حوالے سے بہت کام ہوا ہے جس کی ایک وجہ جی ایس پی پلس کی تلوار اور ایکسپورٹس کے مسائل تھے آئی ایل او کے ساتھ اصلاحات پر جتنا بھی کام ہوا وہ سہ فریقی ہوا ہے
میرے نزدیک سب سے اہم چیز ریئل ٹائم ڈیٹا ہے ورکرز خود کو رجسٹر نہیں کرواتے ہم اس پر توجہ دے رہے ہیں اور پریوینشن اینڈ پروٹیکشن سٹرٹیجی پر کام کر رہے ہیں ایسی جامع پالیسی بنائی جا رہی ہے
جس سے مزدوروں کی فلاح و بہبود ہو سکے اس وقت مزدوروں کے بچوں کو ٹیلنٹ سکالرشپ ڈیتھ گرانٹ اور شادی گرانٹ دی جا رہی ہے چودہ ہزار کے قریب بچوں کو سکالر شپ اور ڈیڑھ بلین کی ڈیتھ گرانٹ دی گئی ہے اور التوا کا شکار کیسز کو بھی نمٹا دیا گیا ہے
آن لائن ادائیگی کے نظام سے مزدوروں کو سہولت ملے گی ای او بی آئی اور پیسی کارڈ ہولڈرز کو آن لائن سسٹم سے لنک کیا جائے گا اسی طرح فیکٹریوں میں موجود فیئر پرائس شاپس پر بھی ورکرز کی سہولت یقینی بنائی جا رہی ہے
ہمارے ورکرز ویلفیئر فنڈ کا دس بلین وفاق کے پاس ہے وہ مل جائے تو بہت بہتری ہو سکتی ہے پنجاب نے لیبر کے حوالے سے اپنا قانون بنا لیا ہے جس کے رولز فائنل ہو چکے ہیں اور جلد منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے اس وقت اہم یہ ہے کہ مالک اور مزدور دونوں حالات کی وجہ سے اکٹھے ہو گئے ہیں اور امید ہے کہ معاملات میں ضرور بہتری آئے گی