مزدور اور طبقاتی جنگ
تحریر ( عارف نوناری ) دنیا بھر کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا مزدور طبقہ آج بھی اپنے بنیادی انسانی اور قانونی حقوق کی خاطر ایک طویل اور کٹھن طبقاتی جنگ میں مصروف ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اشیائے خوردونوش سے لے کر بڑی صنعتوں کے پہیے تک، سب اسی طبقے کے مرہونِ منت ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ عشروں گزر جانے کے باوجود ان کے معیارِ زندگی میں کوئی واضح مثبت تبدیلی نہیں آسکی۔ پاکستان میں یہ طبقہ اس وقت بیک وقت تعلیمی، معاشی، سیاسی اور معاشرتی جنگ لڑ رہا ہے، جہاں ایک طرف سرمائے کی ہوس ہے اور دوسری طرف محنت کش کا پسینہ۔
پاکستان نے بین الاقوامی ادارہ محنت کے کئی اہم کنونشنز کی توثیق کر رکھی ہے، جن میں کنونشن 87 (انجمن سازی) اور کنونشن 98 (اجتماعی سودا کاری) شامل ہیں۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ ملکی لیبر قوانین، بشمول انڈسٹریل ریلیشن ایکٹ 2012، ان عالمی معیارات پر پورا نہیں اترتے۔ محنت کشوں کو حاصل قانونی حقوق کا جہاں “قتلِ عام” ہوتا ہے، وہاں لیبر کورٹس میں مقدمات کی طوالت انصاف کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ مزدور رہنماؤں کا مطالبہ ہے کہ ملکی قوانین پر فی الفور نظرثانی کی جائے تاکہ انہیں عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔
پاکستان میں ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تحت مزدوروں کے بچوں کے لیے مفت تعلیم، کتابیں، اور وظائف کی سہولیات موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، محنت کشوں کی بیٹیوں کے لیے جہیز فنڈ اور شادی کی گرانٹس بھی دی جاتی ہیں۔ ملک کے مختلف اضلاع میں مزدوروں کے لیے رہائشی کالونیاں بھی تعمیر کی گئی ہیں، لیکن بڑھتی ہوئی آبادی اور کرائے کے مکانات کے بوجھ نے ان مراعات کو ناکافی بنا دیا ہے۔ 1884ء میں شکاگو کے محنت کشوں نے 8 گھنٹے کام کے مطالبے پر جو خون بہایا تھا، اس کی یاد میں ہر سال یکم مئی تو منایا جاتا ہے، مگر فیکٹریوں اور کانوں کی بھٹی میں جلنے والے لاکھوں مزدور آج بھی اسی استحصال کا شکار ہیں۔
حالیہ برسوں میں کورونا وائرس کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن نے محنت کش طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 33 فیصد آبادی یعنی تقریباً ساڑھے پانچ کروڑ افراد محنت کش طبقے پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے 45 فیصد زراعت، 29 فیصد تجارت و ہوٹلنگ، اور دیگر صنعتوں سے وابستہ ہیں۔ وبا کے دوران حکومت کی یقین دہانیوں کے باوجود چھوٹی بڑی صنعتوں سے مزدوروں کو نکالنے یا بلا تنخواہ گھر بٹھانے کے واقعات نے اس طبقے کو شدید معاشی عدم تحفظ سے دوچار کر دیا ہے۔
پاکستان کا ایک بڑا طبقہ بیرونِ ملک محنت مزدوری کر کے بھاری زرمبادلہ ملک بھیج رہا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومت نے ان کے لیے وزارت بھی قائم کی ہے، لیکن بیرونِ ملک نامساعد حالات اور سخت موسم میں کام کرنے والے ان “قومی ہیروز” کے حقوق کے تحفظ کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
مزدور معاشرے کی وہ طاقت ہے جس نے ملکی درآمدات اور برآمدات میں اضافہ کرنا ہوتا ہے۔ جب تک مزدور کو منافع میں حقدار نہیں ٹھہرایا جاتا اور اس کی عظمت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، قوم کی حقیقی ترقی ممکن نہیں۔ موجودہ حکومت نے کئی منصوبوں کا آغاز کیا ہے، لیکن اصل امتحان ان پالیسیوں کے ثمرات کو براہِ راست مزدور کی دہلیز تک پہنچانا ہے۔