ٹریڈ یونین ایکٹ 1926: سو سال بعد بھی مزدور انصاف کے منتظر
تحریر ( علی ملک، ایڈیٹر لیبر نیوز) برصغیر میں ٹریڈ یونین کے قانونی سفر کا آغاز جس تاریخی قانون سے ہوا، وہ تریڈ یونین ایکٹ ہے۔ اس قانون کو نافذ ہوئے تقریباً ایک صدی مکمل ہونے کو ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس عرصے میں مزدور طبقے کی سماجی اور معاشی حالت میں بنیادی تبدیلی آ سکی ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ قانون سازی اور زمینی حقیقت کے درمیان اکثر ایک خلا موجود رہا ہے، اور جنوبی ایشیا میں مزدور تحریک اسی تضاد کے سائے میں آگے بڑھتی رہی۔
ٹریڈ یونین ایکٹ اس وقت کے صنعتی ماحول کی ضرورت تھا جب مزدوروں کو اجتماعی تنظیم سازی اور اپنے حقوق کے دفاع کے لیے قانونی شناخت کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ برصغیر کے صنعتی شہروں میں کام کرنے والے محنت کش غیر منظم حالات میں کام کرتے تھے اور یونین سازی کو اکثر مشکوک نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اس قانون نے مزدوروں کو تنظیم بنانے اور اجتماعی مذاکرات کا ایک محدود مگر اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ تاہم وقت کے ساتھ یہ سوال اٹھتا رہا کہ کیا یہ قانونی ڈھانچہ جدید صنعتی معاشرے کے مسائل حل کرنے میں کافی ہے؟
آج سو سال بعد صورتحال مختلف ضرور ہے مگر بنیادی مسائل زیادہ تبدیل نہیں ہوئے۔ اگرچہ پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک میں مزدور قوانین میں متعدد اصلاحات کی گئیں، مگر غیر رسمی شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں مزدور اب بھی سماجی تحفظ سے محروم ہیں۔ کم اجرت، غیر یقینی روزگار اور کام کی جگہ تحفظ کے مسائل اب بھی محنت کش طبقے کے اہم چیلنج ہیں۔
پاکستان میں مزدور قوانین کے ارتقاء میں مختلف ادوار میں تبدیلیاں آئیں، مگر عملی نفاذ ہمیشہ بڑا مسئلہ رہا۔ ٹریڈ یونین سرگرمیوں کو قانونی تحفظ حاصل ہونے کے باوجود صنعتی اداروں میں یونین سازی کے راستے مختلف طریقوں سے محدود کیے جانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق محض قانونی اجازت کافی نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ انتظامی شفافیت اور ادارہ جاتی تعاون بھی ضروری ہوتا ہے۔
صنعتی ترقی کے جدید دور میں مزدور حقوق کے مسائل بھی تبدیل ہو چکے ہیں۔ اب صرف اجرت اور اوقات کار ہی نہیں بلکہ سوشل سیکیورٹی، ذہنی صحت، کام کی جگہ ہراسانی اور ڈیجیٹل معیشت میں روزگار کا تحفظ بھی اہم موضوعات بن چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا کی مزدور تحریک کو اب روایتی صنعتی ماڈل سے آگے بڑھ کر نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔
ٹریڈ یونین ایکٹ 1926 کی ایک اہم کامیابی مزدوروں کو اجتماعی آواز دینے کا حق فراہم کرنا تھا، مگر ناقدین کے مطابق یہ قانون وقت کے ساتھ محدود ہوتا گیا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ یونینز کی داخلی تقسیم اور سیاسی وابستگیوں نے مزدور تحریک کی طاقت کو کمزور کیا۔ دوسری طرف مزدور رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ریاستی اور صنعتی سطح پر سنجیدہ مکالمے کے بغیر مزدور حقوق کا تحفظ ممکن نہیں۔
پاکستان سمیت خطے میں غیر رسمی معیشت کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے، جس نے مزدور تنظیموں کے روایتی ماڈل کو چیلنج کیا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ یونین سازی کے دائرے کو وسیع کیا جائے تاکہ گھریلو مزدور، عارضی کارکن اور پلیٹ فارم ورکر بھی قانونی تحفظ حاصل کر سکیں۔
سو سال گزرنے کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ مزدور تحریک کا اصل مقصد صرف قانون سازی نہیں بلکہ اس کا عملی نفاذ ہے۔ اگر قوانین موجود ہوں مگر ان پر عملدرآمد کمزور ہو تو مزدور طبقے کا اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ صنعتی ترقی کا کوئی بھی ماڈل اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس میں محنت کش کو مرکزی حیثیت حاصل نہ ہو۔
آنے والے دور میں مزدور تحریک کو نئی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ ڈیجیٹل معیشت، خودکار صنعتی نظام اور عالمی معاشی تبدیلیاں مزدوروں کے لیے نئے سوالات پیدا کر رہی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹریڈ یونینز صرف احتجاجی پلیٹ فارم نہ رہیں بلکہ پالیسی سازی کے عمل میں بھی مؤثر کردار ادا کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹریڈ یونین ایکٹ 1926 مزدور تاریخ کا اہم سنگ میل ضرور تھا، مگر سو سال بعد بھی مزدور طبقہ بنیادی معاشی انصاف کی تلاش میں ہے۔ مستقبل کا چیلنج صرف قانون سازی نہیں بلکہ سماجی انصاف کے نظام کو عملی شکل دینا ہے تاکہ محنت کش طبقہ واقعی محفوظ اور باوقار زندگی گزار سکے
تعارف: علی ملک سینئیر صحافی اور لیبر نیوز کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ پاکستان اور عالمی سطح پر مزدور تحریک، لیبر پالیسیوں اور محنت کشوں کو درپیش مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں اپنے تجزیاتی مضامین اور رپورٹس کے ذریعے محنت کش طبقے کے مسائل کو موثر انداز میں سامنے لانا اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ان کی صحافتی جدوجہد کا اہم حصہ ہے