تحریر : (عمران علی)
بارہ فروری 2026 کو بھارت میں ہونے والی ملک گیر عام ہڑتال نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ جب محنت کش طبقہ منظم اور متحد ہو جائے تو وہ پورے نظام کو اپنی موجودگی کا احساس دلا سکتا ہے۔ جوائینٹ پلیٹ فارم اٖ سینٹرل ٹرید یونین کی قیادت میں ہونے والی اس ہڑتال میں لاکھوں کارکنوں نے شرکت کی
ٹرانسپورٹ، بینکاری، توانائی، کان کنی اور صنعتی شعبوں میں کام سست روی یا معطلی کا شکار رہا، جس سے یہ پیغام گیا کہ معیشت کا پہیہ چلانے والے ہاتھ دراصل مزدوروں کے ہیں
یہ ہڑتال صرف اجرتوں یا مراعات کا معاملہ نہیں تھی بلکہ روزگار کے تحفظ، نجکاری کے عمل، لیبر قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں اور سماجی تحفظ کے سوالات سے جڑی ہوئی تھی۔
یہ احتجاج جنوبی ایشیا میں ابھرتے ہوئے اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں مزدور طبقہ پالیسی سازی پر اپنا مؤثر کردار چاہتا ہے۔
پاکستان میں بھی یہ پیش رفت غیر متعلق نہیں بھارتی محنت کشوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہڑتال یاد دلاتی ہے کہ حقوق اجتماعی جدوجہد سے حاصل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اصلاحات کے نام پر ایسے اقدامات سامنے آئیں جو یونین سازی، اجتماعی سودے بازی یا ملازمت کے تحفظ کو محدود کریں تو اس کے اثرات پورے صنعتی ڈھانچے پر مرتب ہوتے ہیں۔
پاکستان میں زیرِ بحث لیبر اصلاحات، خصوصاً صوبائی سطح پر مجوزہ قانون سازی، اس تناظر میں اہم ہو جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ترقی کا ماڈل مزدور کو شراکت دار بناتا ہے یا محض لاگت سمجھتا ہے؟ بھارت کے تجربے نے دکھایا کہ مزدور اگر خود کو فیصلہ سازی سے باہر محسوس کریں تو وہ سڑکوں پر اپنا وزن دکھا سکتے ہیں۔
جنوبی ایشیا کی معیشتیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ اس لیے ایک ملک کی مزدور تحریک دوسرے کے لیے بھی اشارہ بن سکتی ہے۔ 12 فروری کی ہڑتال محض ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ محنت کش طبقہ آج بھی سماجی و معاشی مباحثے کا مرکزی کردار بن سکتا ہے بشرطیکہ وہ منظم، باخبر اور متحد ہو
تعارف : عمران علی، پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکر یونین کے جنرل سیکرٹری ہیں اور مزدرو حقوق کے لیئے خدمات انجام دے رہے ہیں