محنت کا معاوضہ اور فری لانسنگ
تحریر ( حامد حسن ) ہم بحیثیت قوم اکثر امریکہ اور یورپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں اور انہیں ہر برائی کی جڑ قرار دیتے ہیں، مگر جب بات انسانی محنت کی قدر اور اس کے منصفانہ معاوضے کی آتی ہے تو یہی ممالک ہمارے لیے عملی مثال بن کر سامنے آتے ہیں
وہاں مزدور ہو یا فری لانسر، اسے اس کی محنت کا پورا اور بروقت معاوضہ ملتا ہے، جس کی بدولت وہ باعزت زندگی گزارتا اور معاشرے میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشروں میں محنت کش طبقہ شدید غربت کا شکار نظر نہیں آتا۔
اس کے برعکس خود کو اسلامی یا اسلامی جمہوریہ کہلانے والے ممالک، جن میں پاکستان، سعودی عرب، دبئی اور دیگر خلیجی ریاستیں شامل ہیں، مزدوروں کے بنیادی حقوق کی بدترین پامالی کر رہے ہیں
یہاں محنت کش کو انسان نہیں بلکہ ایک مشین یا لاگت سمجھا جاتا ہے۔ اس کی صحت، آرام، خاندان اور مستقبل کو نظرانداز کر کے زیادہ سے زیادہ کام لیا جاتا ہے، جبکہ اجرت انتہائی کم رکھی جاتی ہے
پاکستان میں صورتحال خاص طور پر تشویشناک ہے۔ ایک عام مزدور آٹھ گھنٹے کی سخت جسمانی مشقت کے بعد محض 800 سے 1000 روپے حاصل کرتا ہے
جبکہ ہنرمند کاریگر کو بھی بمشکل 1200 روپے دیے جاتے ہیں۔ اگر فی گھنٹہ حساب لگایا جائے تو یہ اجرت 80 سے 100 روپے بنتی ہے، جو آج کے دور میں ایک وقت کے کھانے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ فیکٹریوں اور ملوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی ماہانہ تنخواہ عموماً 18 سے 25 ہزار روپے کے درمیان ہوتی ہے، جو بڑھتی مہنگائی، کرایوں اور بجلی گیس کے بلوں کے سامنے مذاق بن چکی ہے۔
یہی ناانصافی محنت کش طبقے کو غربت، قرض اور مایوسی کے دائرے میں قید رکھتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ مغرب اچھا ہے یا برا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے مزدور کو اس کی محنت کا پورا حق کیوں نہیں دیتے؟
جب تک محنت کی قدر، کم از کم اجرت اور باعزت روزگار کو ریاستی پالیسی کا حقیقی حصہ نہیں بنایا جائے گا، ترقی صرف تقاریر اور نعروں تک ہی محدود رہے گی۔