دو سالہ ہڑتال، مزدور جدوجہد کی اصل حقیقت
تحریر ( قاضی تحسین احمد ہاشمی ) اسپیس میں ٹرام سروس کے محنت کشوں نے دو سال سے جاری ہڑتال ختم کر دی ہے کمپنی انتظامیہ اور مزدور یونینز کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس میں کارکنوں کے مطالبات کو شامل کیا گیا ہے احتجاج گزشتہ دو برس سے کارکنوں کے اجرت، کام کے حالات اور تحفظات کے مطالبات کے تحت جاری تھا
اسپین کے مزدور رہنماؤں کے مطابق معاہدے میں بہتر معاوضہ، کام کے اوقات اور ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے اہم نکات شامل ہیں، جس سے کارکنوں کو تنخواہوں میں مناسب بہتری اور دیگر مراعات مل سکیں گی
یونینز نے اس پیش رفت کو مزدور اتحاد اور اجتماعی گفت و شنید کی کامیابی قرار دیا ہے، جس سے طویل احتجاج کے بعد مفاہمت کے ذریعے حل نکالا گیا
یہ اقدام نہ صرف مقامی مزدور تحریک کے لیے اہم ہے بلکہ اسے منظم جدوجہد اور اجتماعی مذاکرات کی کامیاب مثال بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
دو سالہ ہڑتال سننے، پڑھنے اور کہنے میں جتنی پرجوش اور انقلابی لگتی ہے، زمینی حقیقت میں اتنی ہی تلخ اور کڑی ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کا مزدور نعروں اور طویل جدوجہد کے لیے نہیں بنا، اس کی زندگی دن اور رات کی روٹی کے درمیان پسی ہوئی ہے۔ دن کی روٹی ہو تو رات کی نہیں، رات کی ہو تو دن کی فکر لاحق رہتی ہے۔ ایسے میں یہ تصور کرنا کہ مزدور برسوں کی ہڑتال برداشت کر لے گا، محض خوش فہمی ہے۔
میں نے اپنی زندگی میں سب سے طویل ہڑتال پاکستان سیکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن میں دیکھی۔ اس ہڑتال میں اُس وقت کی چند یونینز، جن میں کنیز فاطمہ اور ایک اور مزدور رہنما شامل تھے، نے چھ ماہ تک ہڑتال کرنے والے مزدوروں کے گھروں تک محدود پیمانے پر راشن پہنچانے کی کوشش کی۔ لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہر یونین، ہر ادارہ اور ہر ہڑتال میں ایسی منصوبہ بندی ممکن نہیں ہوتی۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی مزدور غربت کے باعث لمبی ہڑتالیں نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے مکمل پلاننگ، مالی معاونت، اور متبادل روزگار یا راشن کا بندوبست ناگزیر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ ہمارا مزدور جلد نتائج چاہتا ہے، فوری ریلیف چاہتا ہے، جبکہ طویل تحریکیں صبر، تسلسل اور قربانی مانگتی ہیں، جو اس معاشی نظام میں ممکن نہیں رہتیں۔
پاکستان اسٹیل ملز اس کی ایک واضح مثال ہے۔ وہاں دو دھرنے ہوئے، دونوں کامیابی کے قریب پہنچے، لیکن عین وقت پر ایک سیاسی جماعت کی یونین نے ریٹائرڈ ججوں، ارکانِ اسمبلی کو گواہ بنا کر دھرنا ختم کروا دیا۔ آج دو سال سے زیادہ گزر چکے ہیں، مگر مزدور اب تک خوار ہو رہے ہیں، کوئی شنوائی نہیں۔
ہمیں یہ بات ماننی ہوگی کہ ہڑتالیں، دھرنے اور نعرے کاغذ پر خوبصورت لگتے ہیں، مگر عمل کے بغیر یہ مزدور کے لیے وبال بن جاتے ہیں۔ اگر کوئی سنجیدہ لیڈر یہ سطور پڑھے تو خدا کے لیے مزدور کو جذبات کے بجائے ٹھوس لائحہ عمل دے، تاکہ جدوجہد واقعی نتیجہ خیز ہو سکے۔
تعارف : قاضی تحسین احمد ہاشمی باخبر کالم نگار ہیں، جو لیبر، سماجی، سیاسی اور عوامی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہیں، ان کی تحریروں میں حقائق، توازن نمایاں ہوتی ہے، وہ اپنے منفرد اسلوب اور مدلل اندازِ بیان کی وجہ سے قارئین میں خاص پہچان رکھتے ہیں