جارج اسکوائر کی تاریخی مزدور بغاوت آج بھی زندہ ہے
علی ملک ( ایڈیٹر لیبر نیوز )
اسکاٹ لینڈ کے دارالحکومت گلاسگو میں واقع جارج اسکوائر 31 جنوری 1919 کو اس وقت عالمی مزدور تحریک کی تاریخ کا اہم نشان بن گیا
جب ہزاروں محنت کش بہتر اجرت، کم اوقاتِ کار اور معاشی انصاف کے مطالبات لے کر سڑکوں پر نکل آئے۔ اس احتجاج کو بعد ازاں دی بیٹل آف جارج اسکوائر کے نام سے یاد کیا گیا، جسے معروف اسکاٹش مؤرخ سر ٹوم ڈی وائن مزدور تاریخ کی ایک باوقار اور فیصلہ کن جدوجہد قرار دیتے ہیں
یہ احتجاج پہلی عالمی جنگ کے فوراً بعد کے حالات کا نتیجہ تھا، جب جنگی معیشت کے خاتمے، بیروزگاری، مہنگائی اور کم اجرتوں نے مزدور طبقے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا تھا
جنگ کے دوران محنت کشوں سے طویل اوقاتِ کار لیا گیا، مگر امن کے قیام کے بعد بھی حالات بہتر نہ ہو سکے۔ اسی پس منظر میں مزدور یونینز نے 40 گھنٹے فی ہفتہ کام کے مطالبے کے تحت احتجاج کی کال دی، جس میں فیکٹریوں، شپ یارڈز اور دیگر صنعتی شعبوں سے وابستہ ہزاروں کارکن شریک ہوئے
احتجاج کے دوران جارج اسکوائر میں مزدوروں اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ لاٹھی چارج اور گرفتاریوں نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا
جس کے بعد برطانوی حکومت نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے فوجی دستے اور ٹینک گلاسگو روانہ کر دیے۔ یہ اقدام اس خوف کی عکاسی کرتا تھا کہ کہیں یہ تحریک انقلابی رخ اختیار نہ کر لے۔ کئی مزدور رہنما گرفتار ہوئے، تاہم اس سخت کارروائی کے باوجود تحریک کی آواز دبائی نہ جا سکی
سر ٹوم ڈی وائن کے مطابق جارج اسکوائر کی لڑائی محض ایک ہڑتال یا وقتی احتجاج نہیں تھا بلکہ یہ مزدوروں کے اجتماعی شعور، اتحاد اور اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہونے کی علامت تھی
اگرچہ فوری طور پر 40 گھنٹے کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا گیا، مگر اس تحریک نے برطانیہ بھر میں لیبر پالیسیوں، صنعتی قوانین اور مزدور حقوق پر گہرا اثر ڈالا۔ آنے والے برسوں میں کام کے اوقات، اجرتوں اور ٹریڈ یونین کے حقوق کے حوالے سے اہم اصلاحات متعارف کرائی گئیں
آج ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود، جارج اسکوائر کی مزدور بغاوت دنیا بھر کے محنت کشوں کے لیے ایک مثال اور حوصلے کا ذریعہ ہے
جب بھی اجرت، روزگار کے تحفظ اور کام کے منصفانہ حالات کی بات ہوتی ہے، یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ منظم جدوجہد، اتحاد اور اجتماعی آواز ہی حقیقی تبدیلی کا راستہ ہموار کرتی ہے۔ جارج اسکوائر آج بھی مزدور وقار، قربانی اور مزاحمت کی علامت کے طور پر تاریخ میں زندہ ہے