دی ٹریول آف ترتھ کی رونمائی
کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں معروف مصنف، صحافی اور کالم نگار محمد خان ابڑو کی کتاب دی ٹریول آف ترتھ کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی، جس میں ادبی، سیاسی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی نمایاں شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب ایک سنجیدہ فکری ماحول میں منعقد ہوئی، جہاں ادب، سیاست اور سماج کے باہمی تعلق پر تفصیلی گفتگو کی گئی

تقریب کے مہمانِ خصوصی سابق وزیرِاعظم پاکستان اور پاکستان پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے صدر راجہ پرویز اشرف تھے۔ انہوں نے کتاب کی رونمائی کرتے ہوئے کہا کہ محمد خان ابڑو کی تحریریں سچائی، عوامی مسائل اور سماجی انصاف کی عکاس ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ (دی ٹریول آف ترتھ ) محض ایک کتاب نہیں بلکہ موجودہ دور میں سچ کے سفر اور اس کی قیمت کو سمجھنے کی ایک فکری کوشش ہے۔ انہوں نے مصنف کی جرات مندانہ صحافت اور عوام دوست نقطۂ نظر کو سراہا

کتاب کے مصنف محمد خان ابڑو نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کتاب سچ کی تلاش، سماجی ناانصافی، طبقاتی فرق اور عوامی جدوجہد کے تجربات پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں شامل تحریریں مختلف ادوار میں لکھے گئے مشاہدات اور فکری سوالات کا مجموعہ ہیں، جن کا مقصد قاری کو محض معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ سوچنے اور سوال اٹھانے کی ترغیب دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں سچ کو دبانے کی کوششیں ہمیشہ رہی ہیں، مگر سچ کا سفر رکتا نہیں

تقریب سے کراچی سوشل فورم کے صدر محبوب عباسی، معروف سینئر مصنف مدد علی سندھی، سابق سینیٹر اور مصنف یوسف شاہین، رکن قومی اسمبلی مرزا اختیار بیگ، ایڈووکیٹ سید غلام شاہ اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کتاب کو عہدِ حاضر کے سیاسی، سماجی اور فکری مسائل کا عکاس قرار دیتے ہوئے کہا کہ محمد خان ابڑو کی تحریریں دلیل، تاریخ اور عوامی شعور سے جڑی ہوئی ہیں

تقریب میں سابق صدر آزاد کشمیر چوہدری محمد یاسین، پاکستان پیپلز پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر سید محمد علی شاہ باچا، جنرل سیکرٹری محمد شجاع خان، پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے انفارمیشن سیکرٹری شہزاد سعید چیمہ، پیپلز پارٹی اسپین کے صدر چوہدری اشتیاق، رکن سندھ اسمبلی لعل چند اکرانی سمیت قومی و صوبائی اسمبلی کے ارکان، ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ (دی ٹریول آف ترتھ ) سنجیدہ قارئین کے لیے ایک اہم کتاب ہے، جو نہ صرف موجودہ حالات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ سماجی شعور اور مکالمے کو بھی فروغ دیتی ہے۔