جرمنی میں بے روزگارمحنت کشوں کی تعداد میں معمولی اضافہ
رپورٹ : مہوش ظفر ( نمائندہ لیبر نیوز جرمنی)
برلن : جرمن محکمہ محنت کی تازہ رپورٹ کے مطابق دسمبر 2025 کے دوران جرمنی میں بے روزگاری میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم یہ اضافہ ماہرین کے اندازوں سے کم رہا۔ سیزن ایڈجسٹڈ اعداد و شمار کے مطابق بے روزگار افراد کی تعداد میں تقریباً تین ہزار کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی تعداد 29 لاکھ 80 ہزار کے قریب پہنچ گئی، جبکہ بے روزگاری کی شرح 6.3 فیصد پر برقرار رہی
اعداد و شمار بظاہر اطمینان بخش دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کے پس منظر میں جرمن معیشت کی گہری سست روی واضح ہے۔ گزشتہ دو برس سے معاشی دباؤ، توانائی کے بلند اخراجات، عالمی تجارتی تنازعات اور صنعتی شعبے کی کمزور طلب نے روزگار کی منڈی کو متاثر کیا ہے۔ نئی ملازمتوں کے مواقع محدود ہو رہے ہیں اور کمپنیاں توسیع کے بجائے محتاط حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہیں
ماہرینِ معیشت کے مطابق یورپ کی سب سے بڑی معیشت اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ آٹو موبائل اور مینوفیکچرنگ جیسے اہم شعبے دباؤ میں ہیں، جبکہ عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں کو سست کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ بے روزگاری میں اضافہ محدود رہا، مگر مجموعی رجحان تشویش ناک ہے۔
جرمنی کے لیبر حکام کا کہنا ہے کہ قلیل مدتی طور پر صورتحال قابو میں ہے، تاہم اگر صنعتی پیداوار اور برآمدات میں بہتری نہ آئی تو 2026 میں روزگار پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ جرمنی کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ معاشی بحالی کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع کو بھی محفوظ بنائے، تاکہ محنت کش طبقہ طویل غیر یقینی کیفیت سے نکل سکے