مالی بے ضابطگیاں، پاکستان کی صنعتی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار، آئی ایم ایف

اسلام آباد (لیبر نیوز) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی گورننس و کرپشن ڈائگناسٹک رپورٹ نے ریاستی ملکیتی صنعتی اداروں میں کرپشن، مالی بے ضابطگیوں اور کمزور نگرانی کو پاکستان کی صنعتی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے دیا۔

رپورٹ کے مطابق سرکاری شعبے کی صنعتیں مبہم مالی طریقہ کار، غیر شفاف خریداری اور حکومتی سرپرستی کے باعث پالیسیوں سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں، جس سے نجی شعبہ مسابقتی ماحول میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پالیسیوں پر مخصوص مفادات رکھنے والے بااثر گروہ اثرانداز ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں سبسڈیز، قیمتوں کے تعین اور برآمدی فیصلوں میں بدعنوانی کے آثار نمایاں ہیں۔

آئی ایم ایف نے نشاندہی کی کہ زرعی، توانائی، چینی اور دیگر صنعتی شعبے مفاداتی گروہوں کے زیرِ اثر ہیں، جبکہ شفاف احتساب، مالی آڈٹ اور ادارہ جاتی نگرانی کا نظام انتہائی کمزور ہے۔ رپورٹ کے مطابق بدعنوانی کا خاتمہ اور شفاف صنعتی پالیسی سے آئندہ پانچ سال میں جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد اضافہ ممکن ہے۔

آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ صنعتی اداروں کے آڈٹ سسٹمز، سرکاری خریداری، ضابطہ کاری اور لیبر شفافیت کے اقدامات بہتر بنا کر برآمدات، روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں۔