سندھ لیبر کوڈ مزدوروں پر لاقانونیت مسلط کرنے کی کوشش ہے، ورکرز یکجہتی کمیٹی

کراچی (نمائندہ، امیر صدیقی ) ورکرز یکجہتی کمیٹی نے کہا ہے کہ سندھ لیبر کوڈ کو محنت کشوں کے حقوق محدود کرنے، ان کی شناخت کمزور کرنے اور مزدور تحریک کو بے اثر بنانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

کراچی پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں مزدور رہنماؤں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سماجی تنظیموں اور ترقی پسند دانشوروں نے یکجہتی کے ساتھ مؤقف اختیار کیا کہ یہ مجوزہ قانون محنت کشوں کے بنیادی حقوق پر سنگین حملہ ہے۔

محنت کش فیڈریشن کے رہنما ناصر منصور نے کہا کہ مجوزہ کوڈ کی تیاری میں مزدور تنظیموں کے اعتراضات اور تجاویز کو مکمل طور پر نظرانداز کیا گیا۔ ان کے مطابق محکمہ محنت کے افسران، ایک بین الاقوامی ادارے کی مشاورت کے ساتھ، اس قانون کے ذریعے ٹھیکیداری نظام، عارضی ملازمت اور نجی ٹھیکے کے غیر منصفانہ طریقوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ورکرز یکجہتی کمیٹی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ محنت کشوں کے خلاف ایسے اقدامات خود اس ادارے کی بنیادی مزدور روایات اور عالمی اصولوں کے منافی ہیں جو دنیا بھر میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا دعویٰ کرتا ہے۔ پریس کانفرنس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس متنازعہ کوڈ کو فوری واپس لے اور اصل فریق یعنی محنت کش طبقے اور ان کی نمائندہ تنظیموں کے ساتھ بامعنی مشاورت کے بعد قانون سازی کرے، تاکہ مزدوروں کے روزگار، یونین سازی کے حق اور اجتماعی طاقت کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔