پاکستان نے تین عالمی محنت معیارات کی توثیق کر دی

اسلام آباد (نمائندہ اسامہ قذافی ) پاکستان نے مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور بہتر لیبر پالیسی سازی کے لیے عالمی محنت تنظیم (آئی ایل او) کے تین اہم معیارات کی باضابطہ توثیق کر دی ہے۔ صدر آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل چوہدری سالک حسین نے توثیقی دستاویزات جنیوا میں آئی ایل او کے ڈائریکٹر جنرل گلبرٹ ہونگبو کے حوالے کیے۔

توثیق کیے گئے معیارات میں جبری مشقت کے خاتمے کا 2014 پروٹوکول، میرٹائم لیبر کنونشن 2006 اور لیبر اسٹیٹسٹکس کنونشن 1985 شامل ہیں۔ ان معیارات کا مقصد جبری مشقت کے خاتمے، جہازرانوں کے حقوق کے تحفظ اور ملکی لیبر ڈیٹا کے معیار کو بہتر بنانا ہے تاکہ شواہد پر مبنی موثر پالیسیاں تشکیل دی جا سکیں۔

چوہدری سالک حسین نے کہا کہ یہ فیصلہ سہ فریقی مشاورت کا نتیجہ ہے اور پاکستان کے منصفانہ لیبر ماحول کے عزم کی واضح مثال ہے۔ آئی ایل او پاکستان کے ڈائریکٹر گیر ٹونشٹول نے اس پیش رفت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2006 کے بعد پاکستان نے پہلی بار کسی نئے عالمی محنت معیار کی توثیق کی ہے، جو عالمی لیبر اصولوں کے لیے پاکستان کی نئی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔