پنجاب اور سندھ کے بھٹہ مزدوروں کی صورتحال پر تشویشناک رپورٹ جاری

رپورٹ ، اسامہ قذافی

پنجاب اور سندھ میں بھٹہ مزدوروں کی صورتحال کا تجزیہ کے عنوان سے ایک جامع تحقیقی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ تقریبِ رونمائی کے دوران حکومتی نمائندوں، انسانی حقوق کے کمیشنز، لیبر محکموں کے حکام اور ٹریڈ یونینز کی قیادت نے شرکت کی اور بھٹہ صنعت سے چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے فوری خاتمے پر زور دیا ہے۔

نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ نے کمیونٹی ورلڈ سروس ایشیا  اور نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن کے اشتراک سے جاری کردہ رپورٹ میں دونوں صوبوں میں بھٹہ مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو درپیش تلخ حقائق اور اہم معاشی و سماجی مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تحقیقی دستاویز کے مطابق بھٹہ مزدوروں کی اکثریت نسل در نسل غربت، نام نہاد پیشگی رقم کے باعث جبری مشقت، طے شدہ کم از کم اجرت کی عدم ادائیگی، سوشل سیکیورٹی کے نیٹ ورک تک محدود رسائی، صنفی عدم مساوات، ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور بچوں کی تعلیم و بنیادی سہولیات سے محرومی جیسے سنگین چیلنجز سے نبرد آزما ہے

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے این سی آر سی کی چیئرپرسن عائشہ رضا نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کا سکولوں کے بجائے اینٹوں کے بھٹوں پر مشقت کرنا ایک سنگین قومی مسئلہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بچوں کو چائلڈ لیبر سے محفوظ رکھنا اور ان کی مفت و لازمی تعلیم کو یقینی بنانا ریاست کی بنیادی اور قومی ترجیح ہونی چاہیے۔

سی ڈبلیو ایس اے کی ایسوسی ایٹ ریجنل ڈائریکٹر مصباح خالد نے کہا کہ بھٹہ محنت کشوں کی محرومیوں اور بنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا خاتمہ کسی ایک ادارے کے بس کی بات نہیں، بلکہ اس کے لیے حکومت، لیبر ڈیپارٹمنٹس، سول سوسائٹی اور مزدور تنظیموں کے مابین بین الادارتی اشتراکِ عمل اور مشترکہ جدوجہد ناگزیر ہے۔

پاکستان ورکرز فیڈریشن  کے جنرل سیکریٹری اسد محمود نے محض رپورٹس اور حکومتی وعدوں کو ناکافی قرار دیتے ہوئے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل پیش رفت تب ہی ممکن ہو گی جب بھٹہ مزدوروں کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جائے، انہیں سیسی اور پیسی کے دائرہ کار میں لایا جائے اور ان کی اجرتوں اور حالاتِ کار میں قابلِ پیمائش بہتری لائی جائے

تقریب میں وفاقی و صوبائی سطح کی اہم سیاسی اور انتظامی شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں وفاقی وزیرِ مملکت برائے مذہبی امور کھیل داس کوہستانی، ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی انتھونی نوید، معاونینِ خصوصی وزیراعلیٰ سندھ راج ویر سنگھ سوڈھا، ڈاکٹر شام سندر ایڈوانی اور ویر جی کوہلی، چیئرمین ون مین کمیشن ڈاکٹر شعیب سڈل، ڈائریکٹر جنرل لیبر پنجاب سیدہ کلثوم حئی، کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو، اور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب سارہ احمد شامل تھیں۔

مقررین اور پالیسی سازوں نے اس بات پر متفقہ طور پر زور دیا کہ محض قانون سازی یا تعزیراتی دفعات کا ہونا کافی نہیں، بلکہ ان قوانین کا صوبائی سطح پر سخت نفاذ، اینٹوں کے بھٹوں کی مسلسل نگرانی، مالکان کی جواب دہی اور مضبوط سیاسی عزم ضروری ہے۔ تقریب کے اختتام پر سی ڈبلیو ایس اے کی پروگرام کوآرڈینیٹر فضا حسین نے تمام اسٹیک ہولڈرز اور بالخصوص آجرین سے اپیل کی کہ وہ اس شواہد پر مبنی رپورٹ کی روشنی میں بھٹہ مزدوروں کو باوقار روزگار فراہم کرنے اور بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت دینے کے لیے فوری اقدامات کریں۔