کپاس کی پکار موبائل ایپ پنجاب اور سندھ کی زرعی مزدور یونینز کا تاریخی انقلاب
رپورٹ ، عامر سہیل
پاکستان کے معاشی اور زرعی شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے لاہور کے مقامی ہوٹل میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں غیر منظم زرعی اور کپاس کے شعبے سے وابستہ محنت کشوں کے لیے تیار کی گئی منفرد موبائل ایپلیکیشن کپاس کی پکار کا باضابطہ افتتاح کیا گیا۔
اس تقریب میں پنجاب کے اعلیٰ حکام سمیت صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والی متعدد معروف زرعی اور کاٹن ورکرز یونینز کی قیادت نے خصوصی شرکت کی، جس نے اسے بین الصوبائی مزدور یکجہتی کی ایک اہم مثال بنا دیا۔

یہ ایپلیکیشن بالخصوص ان زرعی اور کھیت مزدوروں بالخصوص کپاس کی چنائی کرنے والی خواتین کے حقوق، بیداری اور تحفظ کے لیے تیار کی گئی ہے جو ناخواندگی یا تکنیکی رکاوٹوں کی وجہ سے اپنے مسائل اٹھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہ ایک صوتی اشاروں پر مبنی اور بصری تصاویری نظام پر مشتمل ایپ ہے

جس کے ذریعے کھیت مزدور آسانی سے آواز اور تصویری علامات کے ذریعے اپنے کام کے حالات، اجرتوں، صحت و تحفظ کے مسائل اور دیگر شکایات حکام اور متعلقہ اداروں تک پہنچا سکتے ہیں۔
تقریب میں صوبائی وزیرِ محنت پنجاب خواجہ محمد منشاء اللہ بٹ، سیکریٹری لیبر پنجاب، اور ڈائریکٹر جنرل لیبر پنجاب سمیت ممتاز لیبر رہنماؤں نسیم چوہدری اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر سینئر لیبر رہنما رانا رضوان اور دیگر نمائندگان کی موجودگی نے تقریب کو انتظامی اور تحریکی لحاظ سے مزید اہمیت بخش دی۔
تقریب کی سب سے نمایاں اور تاریخی خصوصیت صوبہ سندھ سے آئے ہوئے زرعی ورکرز یونینز کے صدور اور نمائندگان کی کثیر تعداد میں شرکت تھی۔ یونائیٹڈ ایگریکلچر اینڈ کاٹن ورکرز یونین جامشورو، سانگھڑ ایگریکلچر اینڈ کاٹن ورکرز یونین، خیرپور میرس کاٹن ورکرز یونین اور سکھر کاٹن پیکر ورکرز یونین سمیت آل سندھ کاٹن ورکرز یونین کے ممتاز رہنماؤں نے اس بین الصوبائی مشترکہ اقدام کا حصہ بن کر زرعی محنت کشوں کے اتحاد کا مظاہرہ کیا۔

افتتاحی تقریب کے موقع پر لاہور کے فلیٹیز ہوٹل میں صوبائی وزیرِ محنت پنجاب، سیکریٹری لیبر، ڈی جی لیبر، اور سندھ سے آئے ہوئے ٹریڈ یونین رہنماؤں کے درمیان ایک اہم اور مفصل اجلاس بھی منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے دوران زرعی اور صنعتی محنت کشوں کو درپیش گوناگوں مسائل، مزدوروں کے آئینی و قانونی حقوق، سوشل سیکیورٹی، تحفظِ صحت، کام کے محفوظ حالات، اور سوشل پروٹیکشن کے دائرہ کار میں توسیع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے وزیرِ محنت نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق صوبائی حکومت ٹیکنالوجی کے مؤثر اور آسان استعمال کے ذریعے محروم اور غیر منظم طبقات کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس کے کھیتوں میں شدید گرمی اور نامساعد حالات میں کام کرنے والی خواتین اور مزدوروں کے لیے ’کپاس کی پکار‘ ایک مضبوط اور بااعتماد پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔
سندھ سے آئے ہوئے لیبر رہنماؤں نے اس ٹیکنالوجیکل پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں زرعی شعبے، بالخصوص کپاس چننے والے ورکرز، طویل عرصے سے بنیادی لیبر قوانین، کم از کم اجرت اور سوشل سیکیورٹی کے نیٹ ورک سے محروم چلے آ رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے ڈیجیٹل اور انقلابی اقدامات کو صرف پنجاب تک محدود رکھنے کے بجائے سندھ سمیت پورے ملک میں وسعت دی جائے تاکہ بین الصوبائی سطح پر تمام زرعی ورکرز کو ایک چھتری تلے لایا جا سکے اور انہیں ان کے قانونی و باوقار روزگار کے حقوق فراہم کیے جا سکیں۔