اجتماعی جدوجہد ہی محنت کشوں کی نجات کا ذریعہ ہے
تحریر ، فیصل بلوچ
پاکستان میں صنعتی بیداری اور مزدور حقوق کی جدوجہد ایک تاریخی اور حسّاس موڑ پر کھڑی ہے۔ آج کا محنت کش محض ایک کارخانے، ایک مل یا کسی ایک ادارے کی محدود انتظامیہ کے سامنے نبرد آزما نہیں، بلکہ وہ ایک ایسے پیچیدہ اور مربوط استحصال کے نظام کے سامنے کھڑا ہے جہاں اس کی بنیادی شناخت، آئینی تحفظات اور انسانی وقار روزمرہ کی بنیاد پر چیلنج ہو رہے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال ہر بیدار مغز محنت کش کے لیے ایک سنگین فکر کا روپ دھار چکا ہے کہ کیا وہ اپنے حقوق کی تحفظ اور اپنے مسائل کے حل کے لیے ایک مضبوط، منظم اور بااختیار پلیٹ فارم کا حامل ہے؟
آج کے صنعتی منظرنامے کا سب سے بڑا ناسور ثرڈ پارٹی کنٹریکٹ سسٹم ہے، جس نے محنت کشوں سے ان کی سب سے بڑی طاقت یعنی ملازمت کا استحقاق اور تحفظ چھین لیا ہے۔ مالکان اور ٹھیکیداروں کے اس مذموم گٹھ جوڑ نے مزدور کو آجر اور اجیر کے بنیادی قانون اور رشتے سے محروم کر کے ایک غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
دوسری جانب وہ ادارے جو آئینی طور پر محنت کشوں کے سماجی و مالی تحفظ کے ضامن تھےجیسے سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن ، ورکرز ویلفیئر بورڈ ، اور ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن آج وہ دفتری سرخ فیتہ شاہی، بے ضابطگیوں اور عدم توجہی کا گڑھ بن چکے ہیں
جہاں ایک غریب ورکر کو اپنے جائز علاج و معالجے، بچوں کے تعلیمی وظائف، ڈیتھ اور میرج گرانٹ یا ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی معمولی پینشن کے لیے سالہا سال چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ مزید برآں، لیبر کورٹس کے چکر، طویل قانونی مرحلہ وار تاخیر اور وکلاء کی بھاری فیسیں عام ورکرز کو انصاف کے حصول سے محروم یا بددل کر دیتی ہیں۔
ان تمام بکھرے ہوئے مسائل کی نوعیت کو اگر گہرائی سے سمجھا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ محنت کشوں کا مسئلہ محض ایک ادارے یا ایک دھاگے تک محدود نہیں ہے۔ اسی لیے ان مظالم کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ایسے ہمہ گیر اور مؤثر پلیٹ فارم کی اشد ضرورت ہے جو محض وقتی نعرے بازی تک محدود نہ ہو،
بلکہ بیک وقت فیکٹری و مل مالکان، صنعتی و کارپوریٹ اداروں، حکومتی محکموں، عدالتوں اور متعلقہ وزارتوں کے سامنے آئینی و قانونی دائرے کے اندر رہتے ہوئے ٹھوس، بااثر اور باوقار انداز میں مزدور کا مقدمہ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
لیکن یہاں ایک انتہائی بنیادی فلسفہ اور اخلاقی اصول سمجھنا ضروری ہے: ہماری جدوجہد کا اصل مقصد اور محور صرف میرا ذاتی مسئلہ یا میرا اپنا حق نہیں ہونا چاہیے۔
اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارے معاشرے اور صنعتی شعبے میں محنت کشوں، کسانوں اور عام شہریوں کی زندگیوں سے ناانصافی، معاشی گھٹن اور مسائل کا خاتمہ ہو، تو ہمیں اپنے روایتی اینانیت پسندانہ خول سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں ایک دوسرے کے زخم کو اپنا زخم اور اپنے کسی دوسرے محنت کش بھائی کے مسئلے کو اپنا مسئلہ سمجھنا ہو گا۔
ایک مزدور جب اپنے کسی انفرادی کیس کے حل کے لیے کسی منظم فیڈریشن یا یونین کے پلیٹ فارم پر آتا ہے، تو اس کا پہلا قدم تو اپنے حق کا حصول ہے، لیکن اس کا دوسرا اور زیادہ اہم ترین قدم یہ ہونا چاہیے کہ وہ ان دسیوں محنت کشوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہو جو اسی جیسے مظالم کا شکار ہیں
تنظیم اور یکجہتی کا مطلب ہی یہی ہے کہ اپاہج معاشی نظام کے خلاف انفرادی آہیں بھرنے کے بجائے اجتماعی آواز بلند کی جائے۔ کسی مظلوم کے لیے قانونی مدد کا ذریعہ بننا، کسی کا ہاتھ تھامنا، ادارے کی دھونس کے سامنے اپنے ساتھی کے لیے ڈھال بننا اور کسی کے لیے آسانیاں پیدا کرنا صرف ایک معاشرتی یا تنظیمی ذمہ داری ہی نہیں، بلکہ یہ ایک اعلیٰ انسانی اور دینی نیکی ہے
اخلاقی اور آفاقی اصول کا تقاضا ہے کہ جب انسان اللہ کے بندوں کے لیے آسانیاں فراہم کرنے اور ان کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو قدرتی طور پر اس کے اپنے راستے کی تمام تر رکاوٹیں اور دشواریاں دور ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
اس موقع پر اپنے بنیادی آئینی و جمہوری حقوق کے دفاع کی اس منصفانہ جنگ میں متحد ہوں۔ ذاتی اغراض کی بندشوں کو توڑ کر، آئینی و قانونی راستہ اختیار کرتے ہوئے، ایک دوسرے کا سہار بنیں اور باہمی تعاون کی ایک نئی اور روشن مثال قائم کریں۔ آپ اپنے محنت کش بھائی کا بوجھ اٹھانے میں اس کا ساتھ دیں، اللہ تعالیٰ آپ کے حقوق اور بالادستی کی راہوں میں آسانیاں پیدا فرمائے گا
تعارف: فیصل علی بلوچ ملی لیبر فیڈریشن کراچی کے صدر ہیں اور طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں صفِ اول میں رہے ہیں ، اپنی تحریروں اور کالموں کے ذریعے وہ نہ صرف مزدوروں کے مسائل کو اعلیٰ ایوانوں تک پہنچاتے ہیں ان کا کالم سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف ایک توانا آواز سمجھا جاتا ہے