کسان کانفرنس کا مزدوروں کی زمینوں کی نیلامی کے خلاف احتجاج کا اعلان
رپورٹ، عامر سہیل
بہاولپور کے مضافاتی علاقے رنگپور میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان اور پنجاب کسان کمیٹی کے زیرِ اہتمام ایک بڑی کسان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے سیاسی رہنماؤں، کسان تحریکوں، اور حقوقِ دانشوران نے شرکت کی
کانفرنس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے سیکرٹری جنرل کامریڈ امداد قاضی نے کہا کہ ملک کا کسان، مزارعہ اور کھیت مزدور اس وقت زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ موجودہ معاشی پالیسیوں نے چھوٹے زمینداروں کو بھی زمینیں آباد کرنے کے قابل نہیں چھوڑا۔

امداد قاضی نے کہا کہ زراعت، جو پاکستان کی معیشت کی بنیاد اور اکثریت آبادی کا ذریعہ معاش ہے، اسے دانستہ طور پر بحران میں دھکیلا گیا ہے۔ حکمران عوام پر پٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کا نیا بوجھ ڈال کر اپنے اقتدار کی عیاشیاں پوری کر رہے ہیں، جبکہ محنت کش طبقے کو صحت، تعلیم اور روزگار جیسی بنیادی سہولیات سے بھی محروم رکھا جا رہا ہے۔
چولستان میں اراضی کی تقسیم اور کارپوریٹ فارمنگ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کامریڈ امداد قاضی نے کہا کہ چولستان کی تاریخی زمینیں سرمائے دارانہ کمپنیوں اور افسر شاہی کے حوالے کی جا رہی ہیں، جس سے صدیوں سے آباد مقامی لوگوں کو اپنے آباؤ اجداد کے قبرستانوں سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چولستان کوئی کیک نہیں ہے جسے کاٹ کر نیلام یا انعام میں بانٹا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چولستان میں بنائے جانے والے نئے کینالز دراصل مقامی لوگوں کی زمینوں پر قبضے کا ذریعہ ہیں اور کسان و چولستانی عوام ان منصوبوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کریں گے۔

کمیونسٹ پارٹی کے رہنما نے سرائیکی وسیب کی تاریخی اور معاشی حیثیت کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ سرائیکی کو ایک الگ قومی وطن کی بنیاد پر صوبہ بنایا جائے۔ انہوں نے محض انتظامی بنیادوں پر صوبے بنانے کی تجاویز کو ریاست کا سازشی منصوبہ قرار دیا
کانفرنس کے میزبان اور پنجاب کسان کمیٹی کی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن جام بشیر نے کہا کہ چولستان اور سرائیکی وسیب کے عوام علاقے کے چوہدریوں، جدید آبادکاروں، عرب شہزادوں اور کارپوریٹ فارمنگ کی کمپنیوں کے ظلم کا شکار ہیں۔ پنجاب صوبے کا حصہ ہونے کے باوجود تمام تر ترقی اور فنڈز صرف وسطی پنجاب تک محدود ہیں، جبکہ مقامی کسانوں کو زرعی اجناس کی مناسب قیمتیں ملتی ہیں نہ ہی کوئی سرکاری خریدار دستیاب ہے۔

کسان کمیٹی کے آرگنائزر احسان الحق نے کہا کہ کھاد فیکٹریاں اور زرعی ادویات کی کمپنیاں کسانوں کا استحصال کر رہی ہیں۔ انہوں نے ملکی نظام پر قابض ججوں، سول و فوجی افسر شاہی اور سیاسی اشرافیہ کو طبقاتی و قومی غلامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کسانوں سے یونٹ سطح پر منظم ہونے کی اپیل کی
بلوچستان بزگر کمیٹی کے صدر فرہاد رند نے خطاب میں کہا کہ لوٹنے والے حکمران چاہے پنجاب کے ہوں یا سندھ، بلوچستان اور پختونخوا کے وڈیرے اور سردار، سب مل کر محنت کشوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ بلوچستان کی معدنیات پر قابض اشرافیہ مقامی عوام کو بے روزگاری الاؤنس تک دینے کو تیار نہیں ہے

کانفرنس سے عوامی ورکرز پارٹی کے فرحت عباس، سندھ ہاری کمیٹی کے صدر پروفیسر منور ٹالپر، عوامی تحریک کے دلدار لغاری، کمیونسٹ پارٹی سندھ کے سیکریٹری کامریڈ اقبال، پاکستان انقلابی پارٹی کے فہیم عامر، سندھین نیشنل کانگریس کے صدر محب آزاد، پاکستان مزدور کسان پارٹی کے راؤ عبدالستار اور این ایس ایف کے عامر چانڈیو نے بھی خطاب کیا
کانفرنس کے اختتام پر متفقہ قرار دادیں منظور کی گئیں جن میں مطالبہ کیا گیا کہ قومیتوں کی بنیاد پر فوری طور پر سرائیکی صوبہ قائم کیا جائے انگریز سامراج کے خلاف برسرِ پیکار حریت پسند ہیرو رائے احمد خان کھرل کی جدوجہد کو درسی نصاب میں شامل کیا جائے اور ان کے یومِ شہادت کو سرکاری سطح پر منایا جائے جبکہ انعام، نیلام اور کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر دی گئی تمام زمینیں منسوخ کر کے مقامی بے زمین کسانوں میں تقسیم کی جائیں