پائلر کی نیشنل لیبر کانفنرس میں لیبر کوڈ پر محنت کشوں کا متحدہ منشور

رپورٹ ، نعمان رشید

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کراچی میں منعقدہ نیشنل لیبر کانفرنس 2026 میں محنت کشوں کے حقوق، اجرتوں، نجکاری، اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے سنگین چیلنجز کے خلاف ایک بااثر اور تاریخی پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئی ہے

اس کانفرنس کا سب سے اہم اور بنیادی پیش رفت نیشنل لیبر کونسل  کی بحالی اور تنظیمِ نو تھی، جس کے تحت ملک بھر کی ٹریڈ یونینز، لیبر فیڈریشنز اور صحافیوں کی تنظیموں نے مزدوروں کی جدوجہد کو ایک قومی پرچم تلے متحد کرنے کا فیصلہ کیا ہے

اجلاس میں اتفاقِ رائے سے صوبائی لیبر کونسلز کے قیام کا فیصلہ کیا گیا، جس میں صوبوں کی نمائندگی کنوینرز اور سیکریٹریز کے ذریعے کی جائے گی۔

واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سندھ کے چیئرمین عبداللطیف نظامانی کو کونسل کا کنوینر برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ پائلر کے ڈائریکٹر عباس حیدر کو سیکریٹری نامزد کیا گیا ہے۔ پائلر کونسل کے مرکزی سیکرٹریٹ کے طور پر خدمات انجام دے گا۔

کانفرنس کے اختتامی سیشن سے بطورِ مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیر محنت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے واضح اور حتمی یقین دہانی کرائی کہ سندھ حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز اور مزدور نمائندوں سے کامل مشاورت اور اتفاقِ رائے کے بغیر سندھ لیبر کوڈ ہرگز نافذ نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد مزدوروں پر کوئی قانون مسلط کرنا نہیں بلکہ انہیں ساتھ لے کر چلنا ہے۔

ولیکا سوشل سیکیورٹی ہسپتال میں ایچ آئی وی  سے متاثرہ بچوں کے معاملے کا ذکر کرتے ہوئے سعید غنی نے اعلان کیا کہ حکومت متاثرہ بچوں کے علاج کے تمام اخراجات برداشت کرے گی اور اس کے لیے ایک پائیدار نظام تشکیل دے رہی ہے۔ انہوں نے ولیکا اور لانڈھی سوشل سیکیورٹی ہسپتالوں کو جديد خطوط پر استوار کرنے اور طبی سہولیات کی بہتری کا بھی وعدہ کیا۔

کانفرنس کے دوران چار اہم سیشنز کا انعقاد کیا گیا جن میں آئی ایم ایف پروگرام کے عوام پر اثرات، لیبر قوانین اور ان کے عملی نفاذ کا فرق، نجکاری کے نتیجے میں پبلک سیکٹر کے ملازمین کا مستقبل، اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے موضوعات پر تفصیلی غور کیا گیا

معاشی ماہر ڈاکٹر عاصم بشیر نے نشاندہی کی کہ پاکستان تجارتی خسارے اور قرضوں کے شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ ایک کم آمدنی والے ملک ہونے کے باوجود یہاں محنت کشوں پر اعلیٰ آمدنی والے ممالک جیسا ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے

سینئر معاشی ماہر ڈاکٹر اسد سعید نے بتایا کہ ریکارڈ مہنگائی نے مزدوروں کی قوتِ خرید ختم کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں غربت کی شرح 33 سے 34 فیصد تک پہنچ چکی ہے اور بچوں میں غذائی قلت و نشوونما میں کمی کے خطرات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے خواتین کی اجرتوں میں فرق پر بات کرتے ہوئے لیبر ایکسپرٹ عابدہ علی نے کہا کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کو یکساں کام کا کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی لیبر اسٹینڈرڈز کو مقامی قوانین کا حصہ بنانے اور شاپ فلور کی سطح پر مزدوروں کی تنظیم سازی کو لازمی قرار دیا

پائلر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عباس حیدر اور دیگر رہنماؤں کی جانب سے کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ سفارشات پیش کی گئیں جس میں مطالبہ کیا گیا کہ قانونی طور پر مقررہ کم سے کم اجرت کا فوری نفاذ یقینی بنایا جائے اور خلاف ورزی کرنے والے مالکان کے خلاف سخت سزائیں مقرر کی جائیں

مزدوروں کو آئینی حقِ انجمن سازی اور اجتماعی سودے کاری  کا آسان اور شفاف طریقہ کار فراہم کیا جائے اور آرگنائزرز کے خلاف انتقامی کارروائیاں روکی جائیں غیر منظم، کنٹریکٹ اور گیگ ورکرزسمیت تمام غیر روایتی محنت کشوں کو سوشل سیکیورٹی کا احاطہ دیا جائے

شدید گرمی اور ماحولیاتی خطرات کو پیشہ ورانہ حادثات تسلیم کرتے ہوئے کارخانوں میں پینے کا پانی، سائے، وقفے اور ہیٹ ایکشن پلان لازمی قرار دیے جائیں آئی ایل او کے کنونشنز 155 اور 187 کی فوری توثیق کی جائے اور معدنیات کے شعبے میں سیکیورٹی اور سیفٹی کے قوانین سخت کیے جائیں

کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ آجروں کی ذمہ داریوں سے فرار کا ذریعہ بننے والے تھرڈ پارٹی کنٹریکٹ سسٹم کو ختم کیا جائے اور عالمی برانڈز کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنی سپلائی چین میں ملکی لیبر قوانین کی پاسداری کو یقینی بنائیں کانفرنس میں قمر الحسن، سلطان محمد خان، عافیہ سلام، ڈاکٹر سید جعفر احمد، فائزہ شیخ، جاوید گل، ناصر منصور، شمع گیلانی، سعید بلوچ اور پروفیسر ریاض شیخ سمیت سول سوسائٹی اور لیبر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا