سندھ سوشل سیکیورٹی ولیکا اسپتال خستہ حالی کا شکار

رپورٹ : فیضان شیخ

سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کا بنیادی مقصد محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کو بیماری اور حادثات کی صورت میں معیاری، محفوظ اور باوقار طبی سہولیات فراہم کرنا ہے، تاہم سیسی والی کا ہسپتال کی موجودہ انتظامی و طبعی حالت پر سنجیدہ سوالات اٹھ گئے ہیں

پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین  کے وفد نے سیسی والیکا اسپتال کا تفصیلی دورہ کیا اور وہاں دستیاب طبی و انتظامی سہولیات کا جائزہ لیا

فیڈریشن کے وفد نے مشاہدہ کیا کہ اسپتال کی عمارت کی حالت انتہائی زبوں حالی کا شکار ہے۔ کئی مقامات پر پلستر اکھڑ رہا ہے، دیواروں میں سیم اور نیمی واضح نظر آتی ہے، جبکہ بجلی کی وائرنگ اور تنصیبات بھی صحت و سلامتی کے بنیادی اصولوں کے منافی ہیں

اگرچہ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے سی سی ٹی وی کیمروں کی بہتری اور ڈس انفیکشن اقدامات کی یقینی دہانی کروائی ہے، تاہم یونین کا کہنا ہے کہ محض کیمرے لگانے سے عمارت کی طبعی خستہ حالی اور محنت کشوں کے خدشات دور نہیں ہو سکتے

پی سی ای ایم نے سیسی کی انتظامیہ سے بنیادی سوالات اٹھاتے ہوئے پوچھا ہے کہ اگر ہر سال ہسپتال کی مرمت، دیکھ بھال اور تجدیدِ نو کے لیے بھاری فنڈز مختص کیے جاتے ہیں تو عمارت کی حالت اتنی ابتر کیوں ہے؟

مختص شدہ بجٹ کہاں اور کیسے خرچ کیا جا رہا ہےعمارت کی مرمت کے کون سے کام منظور ہوئے اور کتنوں پر عملاً کام ہوا فنڈز کے استعمال اور کام کی معیار کو جانچنے کے لیے کیا طریقہ کار موجود ہے؟

اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ سیسی گورننگ باڈی میں شامل مزدور نمائندوں کا کام صرف اجلاسوں میں شرکت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں اسپتالوں کا دورہ کر کے وہاں کی صفائی، ڈسپنسری اور بنیادی ڈھانچے کے معیار کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ محنت کشوں کے خون پسینے کے ٹیکسوں کا درست اور شفاف استعمال ممکن ہو سکے

پی سی ای ایم کی قیادت نے واضح کیا کہ محنت کشوں کو معیاری علاج کی فراہمی کوئی رعایت نہیں بلکہ ان کا قانونی حق ہے اور اس ضمن میں کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں