آل پاکستان لیبر کانفرنس ، مزدوروں کے 500 ارب روپے سے زائد رقم ہر ماہ ہڑپ کرنے کا انکشاف
رپورٹ : عمیر شاہ
آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی میں نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے زیرِ اہتمام ایک روزہ آل پاکستان لیبر کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ملک بھر سے ٹریڈ یونینز، لیبر فیڈریشنز اور محنت کشوں کی نمائندہ تنظیموں کے مندوبین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس میں مزدور کش پالیسیوں، معاہدہ جاتی (کنٹریکٹ) نظام، مہنگائی اور عالمی مالیاتی اداروں کے اثرات کے خلاف جدوجہد کو منظم کرنے اور مزدور طبقے کے حقوق کے تحفظ کا عزم کیا گیا۔

این ٹی یو ایف کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے انکشاف کیا کہ محتاط اندازے کے مطابق فیکٹری مالکان اجرتوں، سوشل سیکیورٹی اور پنشن کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزدوروں کے 500 ارب روپے سے زائد رقم ہر ماہ ہڑپ کر جاتے ہیں، جو ملکی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی جرم اور سماجی ناانصافی ہے
ناصر منصور نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی بے سمت اور غیر جمہوری پالیسیوں نے ملک کو شدید معاشی و سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے، جس کا تمام تر بوجھ 9 کروڑ سے زائد محنت کشوں اور ان کے خاندانوں پر پڑ رہا ہے۔

ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کی جنرل سیکرٹری اور انڈسٹریل گلوبل یونین ٹیکسٹائل اینڈ گارمنٹس کی کو چیئرپرسن زہرہ خان نے کہا کہ کپڑے کی صنعت سے وابستہ مزدوروں کی ابتر حالت زار کی ذمہ داری نہ صرف مقامی سرمایہ داروں بلکہ سالانہ 1.8 ٹریلین ڈالر کا کاروبار کرنے والے بین الاقوامی فیشن برانڈز پر بھی عائد ہوتی ہے
انہوں نے کہا کہ یہ برانڈز آئی ایل او کے عالمی قوانین، یوروپی یونین ڈیو ڈیلیجنس اور ‘پاکستان ایکارڈ’ کی پاسداری کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔
پاکستان ٹیکسٹائل ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سید سجاد گردیزی نے بتایاکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری ملکی برآمدات کا 60 فیصد سے زائد حصہ فراہم کرتی ہے اور 2 کروڑ سے زائد ورکرز کو روزگار دیتی ہے، مگر اس کے باوجود اس شعبے کے 92 فیصد مزدور خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان ورکرز فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری اسد محمود نے کہا کہ فیکٹریوں میں مزدوروں کی استحصال پر مبنی پالیسیوں کو محکمہ محنت کی سرپرستی حاصل ہے۔
آل پاکستان فیڈریشن آف یونائیٹڈ ٹریڈ یونینز کے جنرل سیکرٹری ضیاء سید نے کہا کہ محنت کشوں کے حقوق کسی بھی سیاسی و مذہبی جماعت کا ترجیحی ایجنڈا نہیں ہیں۔
ریلوے ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری نسیم راؤ نے کہا کہ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق اشرافیہ کو سالانہ 2.7 ٹریلین روپے کی سبسیڈی دی جاتی ہے، جبکہ مزدوروں کو بنیادی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔
کانفرنس کے اختتام پر ایک متفقہ مشترکہ اعلامیہ بھی منظور کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کم از کم اجرت کو ملک میں جاری افراطِ زر اور مہنگائی کے تناسب سے بڑھا کر لیونگ ویج کے برابر کیا جائے۔
تمام اداروں سے تھرڈ پارٹی، کنٹریکٹ لیبر اور غیر یقینی روزگار کے نظام کا مکمل خاتمہ کیا جائے خواتین اور مردوں کے لیے مساوی کام کی مساوی اجرت’ کا قانون نافذ کیا جائے اور ورک پلیس پر ہراسانی اور امتیازی سلوک کا خاتمہ کیا جائے۔