خیبر پختونخوا ورکرز ویلفیئر بورڈ کی تعلیمی پالیسی میں تبدیلی کی تجاویز، مزدوروں کے بچوں کی اعلیٰ تعلیم متاثر ہونے کا خدشہ
پشاور ( لیبر نیوز ویب ڈیسک) پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن نے ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کی جانب سے مزدوروں کے بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کی مفت سہولت کے طریقہ کار میں مجوزہ تبدیلیوں پر شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے
فیڈریشن کے صوبائی جنرل سیکرٹری رازم خان نے کہا ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ ایک نئی پالیسی پر غور کر رہا ہے جس کے تحت مزدوروں کو یونیورسٹیوں کی داخلہ، ٹیوشن اور ہاسٹل فیسیں پہلے خود ادا کرنا ہوں گی اور بعد میں ری ایمبرسمنٹ رقم کی واپسی کے لیے کلیم جمع کرانا ہوگا
مزدور فیڈریشن نے نشاندہی کی کہ کم از کم اجرت پر کام کرنے والے غریب محنت کشوں کے لیے لاکھوں روپے کی پیشگی ادائیگیاں کرنا ناممکن ہے، جس سے غریب بچے تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے بجٹ کے 80 فیصد سے زائد اخراجات انتظامی مدات میں ضائع ہو رہے ہیں۔ فیڈریشن نے مطالبہ کیا کہ مجوزہ ری ایمبرسمنٹ کا نظام منسوخ کر کے موجودہ مفت تعلیمی سہولت برقرار رکھی جائے اور بورڈ کے غیر ضروری انتظامی اخراجات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیشن تشکیل دیا جائے۔