منجمد پینشن، زندہ محنت کشوں کی خاموش سزا
محبوب الہی
ایک درخت اگر برسوں پانی نہ پائے تو وہ رفتہ رفتہ سوکھ کر ختم ہو جاتا ہے۔ مگر انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ایک انسان اپنی پوری عمر، توانائی اور جوانی کسی قومی اور ریاستی ادارے کو تعمیر کرنے میں نچوڑ دے، اور جب بڑھاپے کی لاچاری اور بیماری کا وقت آئے تو اسے اپنے ہی جائز حق کے لیے سڑکوں پر در بدر ہونا پڑے یا اپنوں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیا جائے۔
یہی دلخراش کہانی اس وقت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے ہزاروں ریٹائرڈ ملازمین اور معمر محنت کش پنشنرز کی ہے۔ یہ وہ محنت کش اور ماہرین ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے تیس، پینتیس قیمتی سال اس قومی پرچم بردار ادارے کی خدمت میں صرف کیے۔
جن کی رات دن کی محنت، لگن اور پسینے کی بدولت پی آئی اے دنیا بھر کے آسمانوں پر پاکستان کی شناختی علامت اور غرور سمجھا جاتا تھا، آج وہی سفید پوش بزرگ اپنے بنیادی انسانی و معاشی حقوق کے لیے ایک خاموش سزا کاٹ رہے ہیں۔
ان کی پینشن برسوں سے ایک ہی جگہ منجمد کر دی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب ملک میں مہنگائی کا اژدہا ہر سال نئی پرواز بھر کر عام آدمی کی زندگی کا نوالہ چھین رہا ہے۔
آج کی معاشی حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تین گنا تک بڑھ چکی ہیں، بجلی اور گیس کے بلوں نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، اور روزمرہ استعمال کے بنیادی سامان جیسے آٹا، چینی، دالیں اور سبزی عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔
اس پر مستزاد یہ کہ عمر کے اس حصے میں جہاں بیماریاں گھیر لیتی ہیں، ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ ایسے میں پی آئی اے کے ایک ریٹائرڈ ملازم کی قلیل اور منجمد پینشن وقت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ایک ایسی نامکمل رقم بن چکی ہے جس سے مہینے کے ابتدائی چند دنوں کا راشن یا صرف ایک بیماری کی دوا بھی پوری نہیں ہو پاتی
یہ محض چند ہزار معمر شہریوں کا انفرادی معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک سنگین قومی المیہ اور اخلاقی زوال کی نشانی ہے۔ جو معاشرہ یا ریاست اپنے ہی محسنوں کو عمر کے آخری حصے میں ایک باوقار اور محفوظ زندگی دینے میں ناکام ہو جائے،
انتظامی سطح پر اکثر یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ پی آئی اے شدید مالی خسارے کا شکار ہے، ادارے کی نجکاری کا عمل زیرِ غور ہے، پینشن فنڈز میں صلاحیت نہیں رہی یا مختلف قسم کی قانونی و انتظامی رکاوٹیں حائل ہیں۔ مگر اخلاقی اصولوں کے تحت یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ پینشن کوئی مالی خیرات، عطیہ یا سرکاری احسان نہیں ہے۔
پینشن دراصل ملازم کی عمر بھر کی سخت محنت اور خدمات کا وہ جائز حق اور قسط ہے جو اس کی خدمات کے عوض محفوظ رکھی جاتی ہے۔
لہٰذا وقت کے ساتھ ساتھ مہنگائی کے تناسب سے پینشن کی شرح میں باقاعدہ اور متناسب اضافہ کرنا محض ایک ادھورا وعدہ نہیں بلکہ قانون اور انصاف کا لازمی تقاضا ہے۔
دنیا کی باوقار اور زندہ قومیں اپنے بزرگوں اور ریٹائرڈ محنت کشوں کو ریاست کا ناقابلِ تسخیر اثاثہ اور سرمایہ سمجھتی ہیں، جن کے تجربے اور ماضی کی خدمات کا احترام کیا جاتا ہے۔
مگر افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہم نے اپنے ہی ہاتھوں اس قومی سرمائے کو فراموش کر کے گہرے معاشی بحران کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ وفاقی حکومت، وزارتِ ہوابازی اور پی آئی اے کی اعلیٰ انتظامیہ اس انسانی مسئلے کی سنجیدگی اور حساسیت کا فوراً ادراک کریں۔ پی آئی اے کے تمام ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کو ملکی مہنگائی کی شرح کے ساتھ مشروط اور جوڑا جائے اور سالانہ بنیادوں پر اس میں فوری اضافہ کیا جائے۔
تاکہ جن ہاتھوں نے سالہا سال تک اس ملک کے قومی ادارے کا پرچم بلند رکھا، وہ ہاتھ بڑھاپے اور بیماری کے اس نازک موڑ پر اپنی دواؤں، علاج اور دو وقت کی روٹی کے لیے کسی کے آگے پھیلنے کے بجائے باوقار طریقے سے اپنی زندگی بسر کر سکیں۔
تعارف: محبوب الہیٰ سینئر مزدور رہنما اور مسلم لیگ (ن) لیبر ونگ کراچی کے صدر ہیں وہ طویل عرصے سے محنت کشوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ زیرِ بالا کالم میں انہوں نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے ریٹائرڈ ملازمین کو درپیش سنگین معاشی اور طبی مسائل کی نشاندہی کی ہے، جو برسوں کی خدمت کے باوجود آج حکومتی اور انتظامی بے حسی کا شکار ہیں