پنجاب میں اجرتوں کا بحران: فوڈ ورکرز فیڈریشن کا وزیر اعلی پنجاب کو خط
رپورٹ : عامر سہیل
پنجاب کے صنعتی اور تجارتی شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں محنت کش اس وقت شدید معاشی دباؤ اور بے یقینی کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی روزمرہ کی مہنگائی اور کساد بازاری نے جہاں عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے،
وہیں صوبائی حکومت کی جانب سے مزدوروں کی کم از کم اجرت کے حوالے سے اپنائی جانے والی مبہم اور ناہموار پالیسیوں نے صنعتی شعبے میں سنگین بے چینی پیدا کر دی ہے۔
اس اہم اور حساس مسئلے کی نشاندہی پاکستان فوڈ ورکرز فیڈریشن کے لاہور ریجن کے کوآرڈینیٹر محمد سرور بابا نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کو ارسال کردہ اپنے ایک تفصیلی مراسلے میں کی ہے۔
اس مراسلے میں انہوں نے نہ صرف صنعتی و تجارتی اداروں کے ورکرز کی تنخواہوں میں تاخیر اور عدم اضافے کا مقدمہ اٹھایا ہے بلکہ پنجاب کم از کم اجرت کے قانون 2019 کی کھلی خلاف ورزیوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پنجاب کے لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کی روایت رہی ہے کہ وہ سال 1982 سے ہر سال کم از کم اجرتی بورڈ کی سفارشات کی روشنی میں تمام زمروں یعنی غیر ہنر مند ، نیم ہنر مند ، ہنر مند اور انتہائی ہنر مند ورکرز کے لیے جامع اور مربوط نوٹیفکیشن جاری کرتا رہا ہے۔
تاہم گزشتہ برس 8 ستمبر 2025 کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں انتظامیہ نے ایک غیر متوقع اور عجیب و غریب تبدیلی کی، جس کے تحت صرف غیر ہنر مند کارکنوں کے لیے 40 ہزار روپے کی کم از کم اجرت مقرر کی گئی جبکہ باقی تین اہم زمروں کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا۔
اس قانونی و انتظامی سقم کا براہِ راست فائدہ صنعتی و کمرشل اداروں کے آجروں اور مالکان نے اٹھایا۔ مالکان نے یہ موقف اختیار کرتے ہوئے ہنر مند اور نیم ہنر مند طبقے کی اجرتوں میں مناسب اضافہ کرنے سے صاف انکار کر دیا کہ حکومت کی طرف سے ان کے لیے کسی نئی شرح کا تعین ہی نہیں کیا گیا ہے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ سالہا سال کا تجربہ رکھنے والے تکنیکی اور ہنر مند ورکرز کی تنخواہیں غیر ہنر مند مزدوروں کے برابر یا ان سے بھی کم سطح پر جم کر رہ گئیں۔
دوسری جانب تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ صوبے کے بیشتر اداروں میں غیر ہنر مند ورکرز کو بھی 40 ہزار روپے کی مقررہ تنخواہ کی ادائیگی کا اطلاق پوری طرح نہیں ہو سکا ہے۔
معاشی ناانصافی کا سلسلہ صرف تنخواہوں میں عدم اضافے تک محدود نہیں رہا۔ گزشتہ نوٹیفکیشن میں حکومت نے خوراک، رہائش اور ٹرانسپورٹ کی مد میں آجروں کو کی جانے والی کٹوتیوں کی شرحوں میں بھی یکایک اضافہ کر دیا۔
یہ اضافی کٹوتیاں مزدوروں کی پہلے سے قلیل آمدنی پر مزید ڈکیتی ثابت ہوئیں، جس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہونا قرار پایا تھا۔
پنجاب کم از کم اجرت کا قانون 2019 اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ تمام طبقات کے حقوق کا بلاتفریق تحفظ کیا جائے اور کٹوتیوں کو ایک منصفانہ حد میں رکھا جائے۔ لیکن موجودہ مالی سال 2026-2027 کا آغاز ہونے کے باوجود حکومت نے نہ تو پچھلی امتیازی پالیسی کا ازالہ کیا ہے اور نہ ہی اس سال اجرتوں میں مہنگائی کے تناسب سے کوئی نیا اضافہ تجویز کیا ہے۔
اس تمام صورتحال میں محنت کش طبقے اور ٹریڈ یونینز کا مطالبہ بالکل شفاف اور مبنی بر انصاف ہے۔ پنجاب حکومت کو چاہیے کہ وہ کم از کم اجرتی بورڈ کو فوری طور پر فعال کرے اور درج ذیل اقدامات پر بلا تاخیر عملدرآمد یقینی بنائے
مالی سال 2026-2027 کے لیے تمام چاروں زمروں غیر ہنر مند، نیم ہنر مند، ہنر مند اور انتہائی ہنر مند کی تنخواہوں میں مہنگائی کے اصل تناسب سے فوری اضافہ کیا جائے
مالی سال 2025-2026 میں ہنر مند ورکرز کے ساتھ کی جانے والی حق تلفی کا جائزہ لے کر انہیں پچھلی تاریخوں سے تلافی فراہم کی جائے۔
خوراک، رہائش اور نقل و حمل کی مد میں ورکرز کی اجرت سے کی جانے والی ناجائز کٹوتیوں کی شرح کو فوری طور پر کم کیا جائے۔
ہزار روپے کی کم از کم اجرت کے حکم نامے پر صوبے بھر کی تمام فیکٹریوں اور کمرشل اداروں میں مکمل اور سخت نفاذ کرایا جائے۔
صنعتی امن اور پیداواری صلاحیت کا براہِ راست تعلق محنت کش کی معاشی آسودگی اور ذہنی اطمینان سے ہوتا ہے۔ اگر پنجاب میں مزدوروں کی حق تلفی اور امتیازی قوانین کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو اس سے نہ صرف صنعتی فضا متاثر ہوگی
بلکہ حکومت کے عوامی اور مزدور دوست ہونے کے دعوؤں کی قلعی بھی کھل جائے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں اور پنجاب کے لاکھوں مزدوروں کو ان کا جائز اور قانونی حق دلوانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر احکامات جاری کریں