ایچ آئی وی اور سوشل سیکیورٹی کا نظام: پوائنٹ اسکورنگ یا مستقل حل؟

مرزا مقصود

گزشتہ کچھ عرصے سے سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے زیرِ انتظام کلثوم بائی ولیکا ہسپتال سائٹ، کراچی کے شعبہ صحت، پیرامیڈیکس اور انتظامی افسران پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اگرچہ اس علاقے میں ایچ آئی وی  سے متاثرہ بچوں کی خبریں مسلسل سامنے آ رہی تھیں،

 لیکن ان کا براہِ راست تعلق سوشل سیکیورٹی ہسپتال سے تھا یا نہیں، اس پر اب تک کوئی حتمی اور واضح مؤقف سامنے نہیں آ سکا ہے۔

سندھ حکومت کے ایچ آئی وی کنٹرول پروگرام نے ہسپتال سے منسلک علاقوں میں جب اسکریننگ کا عمل شروع کیا تو 10,500 سے زائد ٹیسٹ کیے گئے، جن میں سے 130 سے زائد بچوں میں ایچ آئی وی کی تشخیص ہوئی، جبکہ 10 سے زائد بچے اس موذی مرض سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

 یہ تمام متاثرہ بچے غریب محنت کشوں کے ہیں، جن کا واحد سہارا سوشل سیکیورٹی کے یہی طبی مراکزی نظام ہیں۔

سوشل سیکیورٹی ہسپتال کی گورننگ باڈی، جس کے چیئرمین صوبائی وزیرِ محنت ہیں، نے متاثرہ بچوں کی نگہداشت اور ان کی مالی معاونت کے لیے 2 ارب روپے کے فنڈ قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔

اس کے ساتھ ہی ایک انکوائری کمیٹی قائم کر کے 35 کے قریب ڈاکٹرز اور دیگر عملے کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ تاہم دوسری طرف لانڈھی سوشل سیکیورٹی ہسپتال میں بھی 2000 سے زائد افراد کی اسکریننگ کے بعد 10 سے زائد بچوں کے ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد مزید خدشات پیدا ہو چکے ہیں۔

ایچ آئی وی اور ایڈز کے پھیلاؤ کا یہ مسئلہ صرف سندھ یا سوشل سیکیورٹی کے ہسپتالوں تک محدود نہیں ہے۔ اس سے قبل پنجاب کے سرکاری اسپتالوں سمیت رٹو ڈیرو، لاڑکانہ، ملتان اور گمبٹ سے بھی ایسی تشویشناک رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جہاں ایک ہی سرنج کے بار بار استعمال سے درجنوں افراد اور معصوم بچے اس مرض کا شکار ہوئے۔

قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ایچ آئی وی کے 84 ہزار سے زائد رجسٹرڈ مریض موجود ہیں، جبکہ عالمی اداروں کے تخمینوں کے مطابق یہ تعداد ساڑھے 3 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ جب دنیا بھر میں ایچ آئی وی کے کیسز میں کمی دیکھی جا رہی ہے، پاکستان میں اس کا گراف مسلسل اوپر کی جانب جا رہا ہے۔

اس المناک صورتحال میں سب سے بڑا المیہ ہمارا معاشرتی رویہ ہے۔ ایچ آئی وی کو ایک طبی مرض سمجھنے کے بجائے ہم اسے اخلاقی اور معاشی طور پر ایک گناہ یا چھوت کی بیماری سمجھ کر متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں کو تنہا کر دیتے ہیں۔ یہ سماجی تنہائی اور شرمندگی ہی وہ بنیادی وجہ ہے جس سے لوگ بروقت ٹیسٹ کروانے اور علاج سے کتراتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق بیماریاں چھپانے سے ختم نہیں ہوتیں۔ حکومتی سطح پر عطائی ڈاکٹروں، نام نہاد دانت سازوں، نامناسب ہسپتالوں اور غیر محفوظ سرنجز کے استعمال پر سخت پابندی اور مانیٹرنگ کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کے طبی فضلے کی محفوظ تلفی کو یقینی بنانا ہوگا۔

بدقسمتی سے ہمارا میڈیا، سول سوسائٹی اور ٹریڈ یونینز جہاں سرکاری اداروں کے احتساب کے لیے سخت مؤقف اپنائے رکھتے ہیں، وہیں نجی اور کارپوریٹ اداروں کی غفلت اور مجرمانہ لاپروائی پر کُھل کر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

جب تک ریاست، آجر اور تمام فریقین ایک پیج پر آ کر اس معاملے کو پوائنٹ اسکورنگ یا عارضی مالی اعانت کے بجائے ایک سنگین قومی بحران کے طور پر نہیں لیں گے، اس موذی مرض کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ پردہ پوشی کا رویہ ترک کر کے تمام دستیاب وسائل کے ساتھ متاثرہ محنت کشوں اور ان کے بچوں کے پشت پر کھڑی ہو۔

ایچ آئی وی کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی امداد یا غیر سرکاری تنظیموں پر مکمل انحصار کرنے کے بجائے اسے پولیو مہم کی طرز پر ایک قومی آگاہی اور ہنگامی صحت کا پروگرام بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے

تعارف : مرزا مقصود اس وقت مزدور محاذِ عمل کے صدر کی حیثیت سے صنعتی ورکرز کی قیادت کر رہے ہیں، ان کا شمار صنعتی حلقوں کے ان چند لیبر لیڈرز میں ہوتا ہے جو کسی سیاسی وابستگی کے بغیر خالصتاً محنت کشوں کے معاشی اور آئینی حقوق کے لیے جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت کا محور مزدور محاذِ عمل کا پلیٹ فارم ہے پاکستان کی مزدور تحریک، محنت کشوں اور ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی ایک نمایاں اور سرگرم شخصیت ہیں وہ مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف نہ صرف سڑکوں پر متحرک رہتے ہیں بلکہ خطوط اور کالموں کے ذریعے براہِ راست اربابِ اختیار تک محنت کشوں کی فریاد پہنچانے کے لیے معروف ہیں