ڈاک لیبر اور بحری مزدور کی خوشحالی کی روشن راہ
فیضان شیخ
پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر میں حالیہ برسوں کے دوران ہونے والی انقلابی اصلاحات، جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر اور لاجسٹکس سسٹمز کی بہتری جہاں ملکی معیشت کو نئے پرواز کی سمت دے رہی ہے
وہاں اس معاشی تحرک کی حقیقی روح یعنی ڈاک لیبر اور پورٹس پر دن رات مشقت کرنے والے بحری مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی ایک سنہری دور کا آغاز ثابت ہو رہی ہے
کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر کی بندرگاہوں پر تجارتی سرگرمیوں کا بڑھتا ہوا حجم بلاواسطہ طور پر ان محنت کشوں کے معاشی تحفظ اور روزگار کے پائیدار مواقع میں تبدیل ہو رہا ہے۔
ماضی میں پورٹس اور ڈوکس پر کام کرنے والے مزدوروں کو شدید روایتی مشکلات، کم اجرت، غیر یقینی کام کے اوقات اور غیر محفوظ حالاتِ کار کا سامنا رہتا تھا۔ تاہم وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت شروع کیے گئے جدید کاری کے منصوبوں کے باعث بندرگاہوں کی کارگو ہینڈلنگ، نیویگیشن اور ٹرانسپورٹیشن میں کارآمد ٹیکنالوجی اور جدید مشینری متعارف کرائی گئی ہے
جدید ہاربر کرافٹس، کرینز اور فیس لیس کسٹمز جیسے اقدامات نے نہ صرف پورٹ آپریشنز کو تیز تر بنایا ہے بلکہ ڈاک ورکرز اور پورٹ لیبر پر سے غیر ضروری جسمانی دباؤ اور خطرات کو کم کر کے ان کے کام کے ماحول کو محفوظ اور عالمی معیار کے مطابق ڈھالا ہے۔
شپنگ پالیسی 2026 ٹرانس شپمنٹ پالیسی اور گوادر میں پہلے بین الاقوامی بنکرنگ آپریشن کی کامیابی جیسے تاریخی اقدامات سے پورٹ پر غیر ملکی جہازوں اور تجارتی کارگو کی آمد میں گرانقدر اضافہ توقع کے مطابق دیکھنے میں آ رہا ہے
تجارتی جہازوں کی تعداد میں اضافے کا سیدھا اور براہِ راست فائدہ ڈاک ورکرز اور پورٹ پر کام کرنے والی تمام لیبر یونینز کے اراکین کو پہنچے گا، کیونکہ شپمنٹ اور کارگو کی ہر اضافی ٹن ہینڈلنگ سے مزدور کی دیہاڑی، اوور ٹائم اور انسنٹو میں اضافہ ممکن ہوتا ہے۔
گڈانی میں شپ ری سائیکلنگ، ویسٹ مینجمنٹ اور بلیو اکانومی سے جڑے دیگر ترقیاتی منصوبے ساحلی علاقوں میں بسنے والے مقامی محنت کشوں، ماہی گیروں اور ہنر مندوں کے لیے ہزاروں کی تعداد میں روزگار کی نئی راہیں کھول رہے ہیں
نجی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے باعث پورٹ روڈز، کینٹینز، میڈیکل سہولیات اور فلاحی فنڈز کی حالتِ زار میں بہتری کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔
مزدور رہنماؤں کا بھی ماننا ہے کہ اگر بندرگاہوں سے حاصل ہونے والے اس تجارتی و معاشی انقلاب کا ثمر نچلی سطح پر کام کرنے والے ڈاک لیبر تک شفاف انداز میں پہنچایا جاتا رہا، تو یہ نہ صرف ان کے بچوں کی معیاری تعلیم اور علاج معالجے کی ضمانت بنے گا بلکہ سالہا سال سے اپنے بنیادی حقوق کے منتظر بحری مزدور کو حقیقی خوشحالی اور وقار بھی عطا کرے گا