عارضی پنشن اضافے کے بجائے مستقل آئینی حل کی ضرورت
صمیم طارق
معاشی بحران اور روزافزوں مہنگائی کے موجودہ دور میں جہاں زندگی کی بنیادی ضروریات کا حصول عام آدمی کے لیے ایک کارِ دشوار بن چکا ہے، وہاں اپنی زندگی کا بڑا حصہ قومی خدمت اور فیکٹریوں کی ترقی میں صرف کرنے والے ریٹائرڈ محنت کش سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں
ای او بی آئی کی جانب سے پنسنرز کو دی جانے والی ماہانہ رقم آج کے دور میں ایک سفید پوش بزرگ شہری کے لیے محض نانِ نفقہ کی علامت بن کر رہ گئی ہے
بدقسمتی سے، دہائیوں کی خدمات کے بعد بھی ان ریٹائرڈ ورکرز کو اپنے آئینی و معاشی حق کے حصول کے لیے بار بار ایوانوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے اور سڑکوں پر احتجاج کرنا پڑتا ہے۔
قانون کے مطابق پنشن کا بنیادی فارمولا اوسط ماہانہ اجرت کو ملازمت کے قابلِ شمار کل سالوں سے ضرب دے کر 50 پر تقسیم کرنے” سے حاصل ہوتا ہے۔ قانون میں تو ایک واضح عددی فارمولا موجود ہے، لیکن حقیقت میں حکومت وقتاً فوقتاً انتظامی نوٹیفکیشنز کے ذریعے کم از کم پنشن کا تعین کرتی ہے
گزشتہ برس جنوری 2025 سے کم از کم ای او بی آئی پنشن 11,500 روپے ماہانہ مقرر کی گئی اور فارمولے کے تحت زیادہ پنشن حاصل کرنے والوں کے لیے 15 فیصد اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ کمر توڑ مہنگائی کے زمانے میں گیارہ یا بارہ ہزار روپے میں کسی بھی بزرگ کا ماہانہ راشن، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں؟
ہمارا اور تمام سنجیدہ فکر محنت کشوں کا بنیادی موقف یہ ہے کہ ہمارا مطالبہ محض چند سو یا چند ہزار روپے کا عارضی اضافہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ حکومتوں اور اداروں کی طرف سے چند سالوں بعد برائے نام رقم بڑھا دینا اس مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ یہ پنشنرز کے ساتھ ایک عارضی سمجھوتہ ہے
جب تک اس معاملے کا کوئی قانونی اور پائیدار میکانزم قائم نہیں کیا جائے گا، تب تک بوڑھے محنت کش یوں ہی التجا، مظاہروں اور اپیلوں پر مجبور رہیں گے۔
ہمیں اس نظام کو عارضی فیصلوں سے نکال کر ایک مستقل اور قانونی حل کی طرف لے جانا ہوگا۔ ہماری حکومت اور متعلقہ قانون ساز اداروں سے یہ بنیادی اور پرزور اپیل ہے کہ ایکٹ میں باقاعدہ ترمیم کی جائے، اور پنشن کی رقم کو ملک میں جاری مہنگائی کی شرح اور حکومت کی جانب سے طے کردہ کم از کم اجرت کے ساتھ قانوناً منسلک کر دیا جائے۔
اس آئینی اور انتظامی اصلاح کے نتیجے میں، جیسے ہی ملک میں اجرتیں یا بنیادی اشیائے ضرورت کی قیمتیں بڑھیں گی، پنشنرز کی ماہانہ رقم میں بھی باقاعدہ اور خودکار اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
یہ طریقہ کار نہ صرف دنیا بھر کے فلاحی اداروں میں اپنایا جاتا ہے بلکہ یہی ایک واحد راستہ ہے جو ریٹائرڈ ملازمین کو مستقل بنیادوں پر معاشی تحفظ دے سکتا ہے۔ اس نظام سے پنسنرز کو ہر سال سڑکوں پر نکلنے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی اور ادارے میں شفافیت اور قانونی وقار بحال ہوگا
ہماری یہ جدوجہد کسی فرد، شخصیت یا ادارے کے خلاف نہیں ہے، بلکہ آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ایک مؤثر، منصفانہ اور مستقل نظام کے قیام کے لیے ہے۔
آئینی و قانونی جدوجہد ہی پائیدار تبدیلی اور حقیقی نتائج کا راستہ ہے۔ ایمان، اتحاد اور تنظیم کو اپنا شعار بناتے ہوئے اگر کراچی کے تمام اضلاع اور ٹاؤنز سے تعلق رکھنے والے محنت کش، پنسنرز اور باشعور شہری اس مقصد کے لیے یکجا ہوں تو ایک منصفانہ نظام کا قیام بالکل ممکن ہے۔
بزرگ شہریوں کی معاشی بحالی اور ان کا وقار بحال کرنا صرف ان کا حق نہیں، بلکہ پوری ریاست اور معاشرے کی اخلاقی و آئینی ذمہ داری ہے
تعارف : صمیم طارق کا شمار کراچی کے متحرک مزدور رہنماؤں میں ہوتا ہے، جو خاص طور پر ملی لیبر فیڈریشنکے پلیٹ فارم سے محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں نمایاں ہیں۔ ان کی شناخت ایک ایسے نقاد اور تجزیہ نگار کی ہے جو لیبر قوانین اور ان کے زمینی حقائق کے درمیان موجود فرق کو اعداد و شمار کے ساتھ پیش کرتے ہیں