ڈیتھ گرانٹ کی تاخیر سے بیواؤں کے خواب فائلوں میں دب جاتے ہیں

طفیل احمد میمن

انسان کو ملنے والے اختیارات، عہدے اور اقتدار محض وقتی اور عارضی مراعات نہیں ہوتے، بلکہ یہ خالقِ حقیقی کی طرف سے ایک آزمائش اور امانت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی معاشرے، ادارے یا نظام کی سچی روح کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے سب سے مظلوم، بے بس اور مجبور طبقات کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے۔

 بدقسمتی سے، ہمارے یہاں محنت کشوں اور ان کے پس ماندگان کے لیے قائم کیے گئے فلاحی اداروں کا معاشی و انتظامی رویہ اکثر دل دہلا دینے والی داستانوں کا سبب بنتا ہے۔

اس وقت ورکنگ کلاس سے تعلق رکھنے والے مرحومین کی بیواؤں اور یتیم بچوں کے لیے ‘ڈیتھ گرانٹ’ کی ادائیگی کی موجودہ صورتحال انتہائی افسوسناک اور تشویشناک صورتِ حال اختیار کر چکی ہے۔

ایک طویل عرصے سے متعدد مستحق بیواؤں اور یتیم بچوں کی قانونی اور جائز رقم بلاوجہ روکی ہوئی ہے۔ یہ مسئلہ محض ایک کاغذی کارروائی یا تکنیکی تاخیر تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان بے سہارا خاندانوں کی روٹی، چھت، علاج اور معصوم بچوں کے تعلیمی مستقبل سے جڑا ہوا ایک سنگین انسانی مسئلہ ہے۔

 جب گھر کا کفیل اور واحد کمانے والا انسان اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے، تو اس کا خاندان نہ صرف جذباتی اور نفسیاتی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے، بلکہ اسے مالی اعتبار سے بھی شدید دھچکا لگتا ہے۔

 ایسے موقع پر ریاست اور متعلقہ ادارے اگر وقت پر سہارا نہ بنیں تو پورا خاندان تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔

اس سنگینی کی ایک جلا وطن کر دینے والی مثال ہمارے اپنے ادارے کے ایک مرحوم ملازم کے خاندان کی ہے۔ وہ شخص اپنی زندگی میں محنت مشقت کر کے اپنے چھوٹے بیٹے کو ایک اچھے پرائیویٹ اسکول میں پڑھا رہا تھا تاکہ اس کا بچہ ایک بہتر اور باوقار شہری بن سکے۔

 لیکن دورانِ ملازمت ان کے ناگہانی انتقال کے بعد، ڈیتھ گرانٹ اور قانونی واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے خاندان کی معاشی حالت اس قدر ابتر ہو گئی کہ بچوں کی تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا۔

 نتیجہ یہ نکلا کہ اس معصوم اور ذہین بچے کو اس کی والدہ نے مجبوری کے عالم میں گاؤں کے ایک مقامی باورچی کے پاس کام سیکھنے کے لیے چھوڑ دیا۔

یہ محض ایک بچے کی دردناک کہانی نہیں، بلکہ ملک بھر کے ان تمام یتیم بچوں کا نوحہ ہے جو اپنے آبا و اجداد کے محنت کے ثمر اور قانونی حق کے انتظار میں اپنے روشن مستقبل سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔

ایک طرف ہم علم کے فروغ اور بچوں کو اسکول بھیجنے کے دعوے کرتے ہیں، تو دوسری جانب بیوروکریسی کی بے حسی اور سرخ فیتا شاہی ایک اسکول جاتے بچے کو چائلڈ لیبر اور مزدوری کی بھٹی میں دھکیل دیتی ہے۔

مزدور تنظیمیں، نمائندہ فیڈریشنز اور لیبر ایکٹیوسٹس اپنی محدود استطاعت کے مطابق ہر فورم پر اس مسئلے کو اجاگر کرنے اور مستحقین کو ان کا حق دلانے کے لیے مسلسل آواز اٹھا رہے ہیں، لیکن افسوس کا مقام ہے کہ متعلقہ حکام اور انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح، مثبت یا تسلی بخش پیش رفت سامنے نہیں آئی

مقصد کسی فردِ واحد کو موردِ الزام ٹھہرانا یا شخصی تنقید کرنا نہیں ہے، بلکہ ضمیر کو جھنجھوڑنا ہے۔ اربابِ اختیار کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ دفاتر کی فائلوں میں بند یہ کیسز محض اعداد و شمار یا بے جان کاغذات نہیں ہیں، ان کے پیچھے زندہ انسان، آنسو، فاقے اور بکھرتے خواب موجود ہیں۔

ہمارا دین اور آئینِ پاکستان دونوں عدل، انصاف اور یتیموں و بیواؤں کی دست گیری کا واضح درس دیتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نے کسی کو اختیار، قلم اور فیصلہ سازی کی کرسی بخشی ہے، تو اس کا بہترین استعمال یہی ہے کہ کسی کی آہ کو دعا میں بدلا جائے اور کسی مجبور کے چہرے پر مسکراہٹ لائی جائے۔

 عہدے اور اختیارات کل بھی عارضی تھے اور آج بھی عارضی ہیں، لیکن عدل و انصاف کے فیصلے اور انسانیت کی خدمت کی یادیں ہمیشہ باقی رہتی ہیں۔ امید ہے کہ ادارے کے ذمہ داران اس معاملے کو قانونی فرض کے ساتھ ساتھ ایک دینی اور انسانی فریضہ سمجھ کر ڈیتھ گرانٹ کی فوری اور بلا تاخیر ادائیگی ممکن بنائیں گے۔

تعارف ، طفیل احمد میمن مہران شوگر ملز مزدور یونین سی بی اے کے سئینر جنرل سیکریٹری کے عہدے پر فائز رہے محنت کشوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے ایک سرگرم سماجی کارکن اور تجزیہ نگار ہیں۔ طویل عرصے سے مزدوروں سے منسلک مختلف گروپس اور تنظیموں کے ذریعے سندھ ورکرز ویلفیئر بورڈ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آپ کا مقصد محنت کش طبقے، یتیموں اور بیواؤں کے قانونی حقوق کی فراہمی کے لیے شعور اجاگر کرنا اور متعلقہ حکام تک ان کی آواز پہنچانا ہے