آدم جی انجینئرنگ ریفرنڈم: مزدور اتحاد اور طبقاتی جدوجہد کا نیا باب
امیر صدیقی
کراچی کا صنعتی دل، جہاں ہزاروں چیمبرز اور مشینیں رات دن حرکت میں رہتی ہیں، گزشتہ روز مزدور اتحاد، نعروں اور یکجہتی کے ایک نایاب منظرنامہ کا گواہ بنا
آدم جی انجینئرنگ پرائیویٹ لمیٹڈ میں سی بی اے کولاٹری بارگیننگ ایجنٹ کے انتخاب کے لیے منعقدہ ریفرنڈم میں آدم جی انجینئرنگ ورکس ایمپلائز یونین مشعل پینل نے بھاری اکثریت حاصل کر کے ایک شاندار اور تاریخی فتح اپنے نام کر لی ہے
انتخابی نتائج کا اعلان ہوتے ہی فیکٹری کی فضائیں مزدور اتحاد زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھیں اور محنت کشوں نے زبردست جشن منایا۔
آدم جی انجینئرنگ میں منعقدہ یہ ریفرنڈم محض دو یونینز کے درمیان روایتی سیاسی مقابلہ نہیں تھا، بلکہ یہ فیکٹری کی سطح پر مزدوروں کے اجتماعی شعور، جمہوری حق اور طبقاتی فیصلے کا واشگاف اظہار تھا
مشعل پینل کے انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں اترنے والی یونین نے محنت کشوں کے اعتماد کی بدولت واضح اکثریت حاصل کی۔ نتائج کے فوری بعد نومنتخب جنرل سیکریٹری عادل خان، ان کے پینل کے تمام عہدیداران اور کارکنان کو مختلف مزدور فیڈریشنز اور رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔
پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کی ملحقہ اس یونین کی فتح پر فیڈریشن کے مرکزی چیئرمین وقار میمن، اسد میمن، صوبائی صدر بلوچستان میر علی بخش خان جمالی اور صوبائی جنرل سیکریٹری پیر محمد کاکڑ نے نومنتخب قیادت کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی
فیڈریشن کے رہنماؤں نے اس کامیابی کو محنت کشوں کے باہمی اعتماد، ثابت قدمی اور طویل جدوجہد کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نئی قیادت مزدوروں کے حقوق، ان کے معاشی تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے گی۔
اس انتخابی عمل کی خاص بات یہ رہی کہ ریفرنڈم کے دوران اور نتائج کے بعد کراچی اور ملک بھر کی نمائندہ مزدور تنظیموں نے یکجہتی کی بہترین مثال قائم کی۔ پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل انرجی مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین ، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن ، وطن دوست مزدور فیڈریشن، اور نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر خالد خان نے بھی کامیاب ہونے والے مشعل پینل اور اس کے جنرل سیکریٹری عادل خان کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا
جبکہ انتخابی عمل شروع ہونے پر مزدور محاذِ عمل سندھ نے بھی جمہوری عمل کے فروغ کے لیے یونین کی کامل حمایت کا اعادہ کیا تھا۔
صنعتی جمہوریت اور ترقی پسند تحریکوں کے مبصرین کے مطابق، یہ نتائج محض کسی ایک گروہ کی فتح تک محدود نہیں ہیں۔
لیفٹ آرگنائزنگ پاکستان نے جہاں کامیاب یونین کو مبارکباد پیش کی، وہاں مدِ مقابل آدم جی انجینئرنگ پاور آف ورکرز ایمپلائز یونین کو بھی جمہوری عمل میں بھرپور مقابلہ کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا
تنظیم کا کہنا تھا کہ مارکسی اور طبقاتی نقطۂ نظر سے محنت کشوں کی حقیقی طاقت ان کی عددی عددی تعداد میں نہیں بلکہ ان کے یکجا طبقاتی اتحاد، تنظیم اور اجتماعی جدوجہد میں مضمر ہوتی ہے۔
مزدور رہنماؤں اور مختلف فیڈریشنز نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ انتخابی عمل کے اختتام کے بعد تمام تر باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر سرمائے کے استحصال کے خلاف ایک مشترکہ محاذ قائم کیا جانا چاہیے
کامیاب ہونے والی نئی سی بی اے قیادت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اجرتوں میں بہتری، روزگار کے مستقل تحفظ، کام کے انسانی ماحول، سوشل سیکیورٹی اور دیگر بنیادی آئینی حقوق کے حصول کے لیے فیکٹری انتظامیہ کے سامنے محنت کشوں کی مؤثر اور بے باک آواز بنے گی
آدم جی انجینئرنگ کا یہ ریفرنڈم اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اگر محنت کش متحد رہیں، تو وہ نہ صرف اپنے جمہوری حق کا تحفظ کر سکتے ہیں بلکہ اپنے روشن مستقبل کی بنیاد بھی خود رکھ سکتے ہیں۔