سندھ کا محکمۂ محنت اور منظورِ نظر تنظیموں کا انتخاب
محمد سلیم
جمہوریت اور حقوق کی پاداش میں جب فیصلوں کا اختیار صرف چند منتخب میزوں تک محدود ہو جائے، تو اس کا سب سے بڑا خمیازہ اس طبقے کو بھگتنا پڑتا ہے جو سڑکوں، ملوں اور کارخانوں میں پسینہ بہاتا ہے
سندھ کا محکمۂ محنت ان دنوں ایک عجیب طرزِ حکمرانی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔ وزیرِ محنت سندھ کی جانب سے محنت کشوں کے درپیش مسائل پر حل کی تلاش کے لیے اجلاسوں کا سلسلہ تو جاری ہے، لیکن ان اجلاسوں کا حلیہ اور ترتیب سوالات کے کٹہرے میں ہے۔
اگر وزیرِ محنت صرف چند مخصوص اور منظورِ نظر لیبر فیڈریشنز کے نمائندگان کو اپنے ساتھ بٹھا کر فیصلوں کی مسند سجا رہے ہیں اور کراچی سمیت صوبے کی دیگر تمام نمائندہ اور فعال لیبر فیڈریشنز کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، تو یہ ماننا پڑے گا کہ اس طرزِ عمل سے سندھ کے مزدوروں کے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکتے۔
صنعتی اداروں کی چار دیواری میں گھٹتا ہوا مزدور، سوشل سیکیورٹی کے دفاتر کے چکر کاٹتا ہوا ضعیف پنشنر، یا کم از کم اجرت کی عدم ادائیگی پر انصاف کی تلاش میں بھٹکتا ہوا فیکٹری ورکریہ مسائل کسی ایک یا دو پسندیدہ تنظیموں کے ذاتی مسائل نہیں ہیں۔ ملازمت کا تحفظ، صنعتی سیفٹی، ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی کے حقوق پورے محنت کش طبقے کی مشترکہ اور اجتماعی ملکیت ہیں
حقیقت یہ ہے کہ چند مخصوص فیڈریشنز کو بلا کر دیگر بااثر اور حقیقی مزدور تنظیموں کو تماشائی بنا دینا، مشاورت کے مقدس لفظ کی توہین ہے۔ اسے جمہوریت نہیں بلکہ محنت کشوں کی حقیقی آواز کو محدود اور خاموش کرنے کی کوشش ہی کہا جائے گا۔
جب تک فیصلوں کی میز پر سچ بولنے والے، زمینی حقائق سے واقف اور فیکٹری لیول پر جنگ لڑنے والے نمائندے موجود نہیں ہوں گے، تب تک کاغذوں پر بننے والی پالیسیاں محض ڈرائنگ رومز کی زینت ہی بنی رہیں گی۔
وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ صوبائی محکمۂ محنت اور بالخصوص وزیرِ محنت سندھ اپنے اس محدود نقطۂ نظر پر مراجعہ کریں۔ سندھ کی تمام متعلقہ اور حقیقی نمائندہ لیبر فیڈریشنز کو فوری اعتماد میں لیا جائے اور ایک جامع، شفاف اور باہم مساوی اجلاس کا انعقاد ممکن بنایا جائے۔
ایک ایسا فورم جہاں ہر فیڈریشن کو بغیر کسی سیاسی و ذاتی تفریق کے اپنا مؤقف پیش کرنے کا مساوی موقع ملے
سندھ کے محنت کشوں کے دیرینہ مسائل کا واحد حل ایک غیر جانب دار، شفاف اور جامع مشاورت میں ہی پنہاں ہے۔ تمام تر پسند و ناپسند کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سندھ کے تمام مزدور نمائندگان کو برابر کی عزت، نمائندگی اور بات رکھنے کا بنیادی حق دیا جانا چاہیے کیونکہ مزدور کی روزی اور زندگی پر چند دستخطوں کی اجارہ داری قائم نہیں کی جا سکتی۔
تعارف : محمد سلیم پاکستان کے معروف مزدور رہنما اور پاکستان فیڈرشن آف کیمیکل انرجی مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین کے صدر ہیں مصنف کیمیکل، توانائی اور مائنز سیکٹر سے وابستہ محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ، لیبر قوانین کے نفاذ اور صنعتی مسائل کے حل کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہے ہیں اور ساتھ ہی مزدور تحریک میں اپنی جدوجہد، مؤثر قیادت اور محنت کشوں کی نمائندگی کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں