بیوروکریسی کا چہرہ

قاضی تحسین احمد ہاشمی

ہمارے معاشرے اور عمومی بیوروکریٹک ڈھانچے میں کلیریکل جابز کے حوالے سے ایک گہری غلط فہمی عام ہے کہ کلرک کا کام محض فائلیں سنبھالنا، کاغذات پر ٹیگ لگانا اور ٹائپنگ کرنا ہے، جس میں کسی دانشمندی یا فیصلہ سازی کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ لیکن کیا واقعی دفاتر کے اندرونی نظام کی حقیقت یہی ہے؟ ہرگز نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سرکاری دفاتر میں عملی طور پر کلیریکل اسٹاف ہی سے افسروں والا تمام بنیادی کام لیا جاتا ہے، جبکہ متعلقہ افسر کا کردار محض آخر میں دستخط کرنے تک محدود ہوتا ہے۔

اگر باریک بینی سے دیکھا جائے تو کلرک دراصل پوری بیوروکریسی کا نیورل نیٹ ورک ہیں۔ وہ معلومات کو مرتب کرتے ہیں، پیچیدہ ڈیٹا کو منظم بناتے ہیں اور بالا حکام کو درست اور بروقت فیصلے کرنے کے لیے بنیادی مواد اور فیکٹس فراہم کرتے ہیں۔ ایک تجربہ کار اور ذہین کلرک اپنے افسر کو انتظامی و قانونی غلطیوں سے بچاتا ہے اور اس کے قیمتی وقت کی بچت یقینی بناتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر کلیریکل عملے کی اپنی خصوصیات اور خامیوں کے مختلف پہلو ہیں۔ مغربی ممالک میں کلرک ڈیجیٹل ریکارڈز کو اس حد تک شفاف بناتے ہیں کہ عام شہری ایک کلک پر اپنا مطلوبہ ڈیٹا چیک کر سکتا ہے۔

جرمنی اور جاپان میں کلرکوں کو اپنے اپنے مخصوص شعبوں میں انتہائی ماہر بنایا جاتا ہے، جبکہ امریکہ اور برطانیہ میں جدید سافٹ ویئر کے استعمال سے غلطیوں کے امکانات نا ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔

 اس کے برعکس، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک میں یہی عملہ بعض اوقات حد سے زیادہ اصولوں اور قواعد کی پابندی میں الجھ کر بیوروکریٹک پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے۔ نیز، بہت سے مغربی اور ترقی پذیر ممالک میں کلرکوں کی تنخواہیں ان کی حقیقی خدمت اور اہمیت کے مقابلے میں کم رکھی جاتی ہیں۔

پاکستان اور جنوبی ایشیا کے سیاق و سباق میں صورتِ حال اور بھی مختلف ہے۔ ہمارے ہاں پرانے کلرک اپنے متعلقہ محکموں کے ضوابط اور دستور العمل کو زبانی یاد رکھتے ہیں، جو ہر نئے آنے والے افسر کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوتے ہیں۔ مقامی کلرک دستی فائلنگ، پرچیوں کے نظام اور محدود وسائل کے باوجود محنت سے کام چلاتے ہیں اور اپنی دیرینہ جڑوں کی بنا پر کئی بار غیر قانونی سیاسی مداخلتوں کے آگے بندھ بھی باندھ دیتے ہیں۔

تاہم، مقامی سطح پر سنگین خامیوں کا ایک پورا سلسلہ موجود ہے۔ دستی نظام کی وجہ سے کاغذات کے ڈھیر اور کام میں غیر معمولی تاخیر پیدا ہوتی ہے۔ کم تنخواہیں اور سخت نگرانی کی کمی بعض اوقات کرپشن اور رشوت کو جنم دیتی ہے۔ سب سے بڑا المیہ تکنیکی تربیت کا فقدان ہے۔

پاکستان میں کلیریکل اسٹاف کے لیے کوئی منظم تربیتی پروگرام موجود نہیں ہوتا اور عملہ بغیر جدید تربیت کے اپنی پوری سروس گزار دیتا ہے۔ افسران پروموٹ ہو کر آگے نکل جاتے ہیں لیکن نچلا نظام “پیچھے دیکھو، آگے دوڑو” اور نچلے درجے کی نقل مارنے پر ہی چلتا رہتا ہے۔

اگر دنیا کی تاریخ اور بڑے حکمرانوں کے طرزِ عمل کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ طاقتور ترین رہنما بھی کلیریکل مواد اور عملے کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے تھے۔

 لنکن، روزویلٹ، اور آئزن ہاور جیسے نامور امریکی صدور کا اپنے دفتر میں یہ معمول رہا کہ وہ خود خطوط تحریر کرتے، اہم مسودات بناتے اور اپنی تقاریر کے ابتدائی ڈرافٹ خود تیار کرتے تھے۔

امریکی صدور کلیریکل ڈیٹا کو ترتیب ضرور دیتے ہیں، مگر جہاں تک حتمی فیصلہ سازی کا فن ہے، وہ کام صدر خود انجام دیتے ہیں۔ ابراہم لنکن اکثر وائٹ ہاؤس کے کلرکوں کے ساتھ خود بیٹھ کر خطوط کا مسودہ تیار کرواتے تاکہ پیغام واضح رہے اور وقت ضائع نہ ہو۔

اسی طرح جنرل آئزن ہاور نے اپنی تاریخی  تقریر کا بنیادی مسودہ اپنے ہاتھ سے لکھا اور بعد میں اسے کلرکوں کے ذریعے ٹائپ اور فارمیٹ کروایا۔ یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ کلرکوں کو محض ماتحت نہیں بلکہ اپنا مضبوط معاون سمجھتے تھے جو افسر کی فکر کو سہارا دیتا ہے۔

کلیریکل عملے کو صحیح معنوں میں بیوروکریسی کا چہرہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایک قابل اور دیانت دار کلرک انتظامی مشینری کو درست سمت فراہم کرتا ہے جبکہ غیر مدبرانہ نظام پورے محکمے کی کارکردگی کو الجھا کر رکھ دیتا ہے۔

امریکی صدور اور عالمی اداروں کا طرزِ عمل ہمیں یہ واضح سبق دیتا ہے کہ کلیریکل اسٹاف کو نظر انداز کرنے یا محض ٹائپسٹ سمجھنے کے بجائے انہیں جدید تربیت اور بااختیار فریم ورک دیا جائے، کیونکہ سرکاری نظام میں آنے والی ہر درخواست، ہر فائل اور ہر حتمی فیصلہ سب سے پہلے اسی در سے گزر کر آگے بڑھتا ہے۔

تعارف:قاضی تحسین احمد ہاشمی پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار، کالم نگار اور مزدور امور کے ماہر ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کے حقوق، صنعتی تعلقات اور طبقاتی نظام پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف محنت کش طبقے میں شعور بیدار کرنے اور لیبر قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی ہیں۔ وہ اپنے منفرد اور فکری اندازِ تحریر کے باعث ادبی اور صنعتی حلقوں میں یکساں مقبول ہیں