اسٹیل ملز کے جبری برطرف محنت کشوں کا 10 سالہ بقایا جات ادا کرنے کا مطالبہ
کراچی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک) پاکستان اسٹیل ملز کے جبری برطرف، ریٹائرڈ اور متوفی ملازمین کے نمائندوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ 2016ء سے 2026ء تک کے روکے گئے تمام واجبات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔
جبرًا ریٹرنچ اور ریٹائرڈ ملازمین اتحاد نے الزام عائد کیا ہے کہ ادارہ بند ہونے کے باوجود سیکڑوں افسران کا بوجھ برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ ملازمین کو 11 سال سے پراویڈنٹ فنڈ کا منافع فراہم نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیل ملز کی اراضی اور اثاثے فروخت کرنے کے بجائے گلشنِ حدید، اسٹیل ٹاؤن، مکلی اور جھمپیر کے خالی مکانات و اراضی پر ملازمین کو مالکانہ حقوق دیے جائیں، اور غیر قانونی برطرفیوں کے خلاف گولڈن ہینڈ شیک یا اسکیم کا باقاعدہ لیٹر جاری کیا جائے۔
سندھ ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے اور آئندہ کے لائحہ عمل کی تیاری کے لیے اہم مشاورتی اجلاس طلب کیا گیا ہے۔