ای او بی آئی کا خسارہ ؟

اسرار ایوبی

ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن  کو مالی سال 2036-37 تک 237.048 ارب روپے کے تاریخی خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس متوقع مالیاتی خسارے اور فنڈز کی مسلسل کمی کو پورا کرنے کے لیے آجروں کی طرف سے دیے جانے والے کنٹری بیوشن  کی شرح میں فوری اضافے اور وفاقی حکومت کی جانب سے اضافی مالیاتی گرانٹ کی اشد ضرورت پیش آئے گی

 یہ سنگین معاشی معاملہ حال ہی میں کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹیکے اہم اجلاس میں تفصیلی بحث کے لیے پیش کیا گیا ای او بی آئی ایک خود مختار ادارہ ہے جو 1976 کے ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اس کا بنیادی مقصد نجی شعبے، صنعتی اور تجارتی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد یا معذوری کی صورت میں معاشی تحفظ اور پنشن فراہم کرنا ہے۔ ادارے کے بورڈ آف ٹرسٹیز میں وفاق، صوبوں، مالکان اور مزدوروں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔

موجودہ اعداد و شمار کے مطابق  ای او بی آئی اس وقت ملک بھر کے تقریباً 4 لاکھ 30 ہزار افراد اور ان کے لواحقین کو مختلف مالیاتی فوائد فراہم کر رہا ہے، جن میں ضعیف العمری پنشن، پسماندگان کی پنشن، معذوری پنشن اور اولڈ ایج گرانٹ شامل ہیں

حکومتی فیصلوں کے مطابق یکم جنوری 2025 سے کم از کم پنشن 10 ہزار روپے سے بڑھا کر 11,500 روپے ماہانہ کی گئی تھی۔ ای او بی آئی کی کنٹری بیوشن وصولیوں میں گزشتہ چند سالوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

مالی سال 23-2022 میں جہاں صرف 9 ارب روپے حاصل ہوئے تھے، وہیں مالی سال 24-2023 میں یہ رقم بڑھ کر 80 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ادارے کو اپنے مختلف منصوبوں اور سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بھی قدرے بہتری دیکھی گئی، تاہم ان تمام تر وصولیوں کے باوجود پنشنرز کی تعداد اور پنشن کی رقم میں اضافے کی وجہ سے اخراجات کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

مالی سال 23-2022 میں پنشن کی مد میں 51 ارب روپے ادا کیے گئے تھے، جو مالی سال 24-2023 میں بڑھ کر 57.1 ارب روپے اور مالی سال 25-2024 میں 59.506 ارب روپے تک جا پہنچے اس کے ساتھ ہی رجسٹرڈ پنشنرز کی تعداد بھی 2022-23 کے 411,235 سے بڑھ کر 2024-25 میں 436,175 ہو چکی ہے

ایکچوریل (ایکچوریل سائنس کے مالیاتی) تخمینوں اور رپورٹ کے مطابق فنڈ کا بیلنس مالی سال 29-2028 میں 629.1 ارب روپے کی اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ جائے گا، لیکن اس کے فوراً بعد فنڈ کے ذخائر میں تیزی سے کمی آنا شروع ہو جائے گی

اگرچہ موجودہ سالوں میں آجروں کی جانب سے کنٹری بیوشن میں اوسطاً 10.22 فیصد سالانہ اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، لیکن طویل المدتی بنیادوں پر یہ اضافہ بڑھتی ہوئی مالی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے کسی طور کافی نہیں ہوگا۔ اگر موجودہ مالیاتی پیرامیٹرز کو تبدیل نہ کیا گیا تو مالی سال 2036-37 تک ادارہ 237.048 ارب روپے کے مجموعی خسارے کا شکار ہو جائے گا

اس ابتر صورت حال کے پیشِ نظر ماہرین اور وزارت کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ آجروں کی جانب سے ماہانہ کنٹری بیوشن کی وصولی کی شرح میں فی الفور مناسب اضافہ کیا جائے اور ساتھ ہی وفاقی حکومت کی جانب سے بھی ادارے کو اضافی مالی اعانت فراہم کی جائے

نجی شعبے کے لاکھوں ملازمین اور ان کے پسماندگان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ای او بی آئی کے مالی وسائل کی ازسرنو اور پائیدار بنیادوں پر تشکیل کی جائے۔ اس کے لیے وزارتِ سندر پار پاکستانی و ترقیِ انسانی وسائل کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ادارے کی طویل المدتی مالیاتی پائیداری کے لیے کنٹری بیوشن اور بجٹ تخمینوں کی دوبارہ جائزہ رپورٹ تیار کر کے جلد از جلد کابینہ کے سامنے پیش کرے۔

تعارف، اسرار ایوبی پاکستان میں سماجی تحفظ اور مزدوروں کے حقوق کے شعبے کا ایک معتبر اور معروف نام ہیں۔ وہ ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن  کے سابق افسر تعلقاتِ عامہ رہ چکے ہیں اور انہوں نے طویل عرصے تک محنت کشوں کے پنشن و دیگر مسائل کو اجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس وقت وہ ڈائریکٹر سوشل سیفٹی نیٹ، پاکستان کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ان کے تحقیقی مضامین اور معاشی تجزیے لیبر قوانین کے ارتقا، سماجی تحفظ کے نظام اور ٹریڈ یونینز کی تاریخ پر گہری اور مستند چھاپ رکھتے ہیں