تائیوان میں فلپائنی مہاجر محنت کشوں کے ساتھ زیادتیاں، عالمی یونینز کا احتجاج
تائیوان ( لیبر نیوز فارن ڈیسک) تائیوان میں طبی آلات بنانے والی کمپنی ٹائی ڈاک ٹیکنالوجی میں مقیم فلپائنی خواتین ورکرز نے جبری مشقت، امتیازی سلوک اور یونین سازی پر پابندی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے یونین قائم کر لی۔
کمپنی انتظامیہ نے ورکرز کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کیں، بلا معاوضہ صفائی پر مجبور کیا اور ڈرا دھمکا کر یونین ختم کرنے کا دباؤ ڈالا۔ فروری 2026ء میں کمپنی نے یونین صدر سمیت 7 عہدیداروں کو غیر قانونی طور پر ملازمت سے برطرف کر دیا
مئی 2026ء میں تائیوان کی وزارتِ محنت کی اینٹی لیبر پریکٹس کمیٹی نے ان برطرفیوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملازمین کو بحال کرنے اور بقایا جات ادا کرنے کا حکم دیا۔
تاہم کمپنی نے عدالتی کارروائی کا بہانہ بنا کر بحالی کو عارضی قرار دیا اور سول و کرمنل مقدمات واپس لینے سے انکار کر دیا۔ اس معاملے پر انڈسٹری آل گلوبل یونین اور آر او سی ایم یو محنت کشوں کے ساتھ بھرپور تعاون کر رہے ہیں۔