بے روزگار محنت کشوں کے لیے مشترکہ فنانسنگ پروگرام کے تیسرے مرحلے کا انعقاد

رپورٹ : جے حسن خان

اقوامِ متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے  نے سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ  کے اشتراک سے دیہی سندھ کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں  کے لیے مشترکہ فنانسنگ پروگرام کے تیسرے مرحلے کا انعقاد کیا۔ اس تقریب کے دوران 17 منتخب ایس ایم ایز کو 20 لاکھ 30 ہزار یورو (65 کروڑ روپے سے زائد) کی گرانٹس جاری کی گئیں، جبکہ پروگرام کے چوتھے مرحلے کے لیے دیہی سندھ کے اضلاع کے محنت کشوں سے نئی درخواستیں بھی طلب کر لی گئی ہیں

یہ اقدام دیہی سندھ میں بے روزگار محنت کشوں میں غربت کے خاتمے اور جامع ترقی  نامی انٹرپرائز گرانٹ پروگرام کے تحت اٹھایا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد پائیدار معاشی سرگرمیوں کا فروغ، مقامی کاروبار کو مستحکم کرنا اور نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔

یونیڈو کے آفس انچارج بدرالاسلام نے تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے مالیاتی ڈھانچے اور اہداف پر روشنی ڈالی کہ یہ پورا پروگرام 5 کروڑ یورو کی مالیت کا ہے  جس کی مالی معاونت یورپی یونین کر رہی ہے۔ اس میں سے 2 کروڑ یورو تقریباً 6.5 ارب روپے کا خطیر فنڈ نجی کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے مختص کیا گیا ہے سال 2023ء سے اب تک 51 ایس ایم ایز اور 250 مائیکرو کاروباری اداروں کو 1.1 کروڑ یورو سے زائد کی گرانٹس فراہم کی جا چکی ہیں۔ یہ پروگرام 2029ء تک جاری رہے گا

ایس ایم ای کے لیے گرانٹ کی زیادہ سے زیادہ حد 2 لاکھ یورو، جبکہ مائیکرو کاروباری اداروں کے لیے 10 ہزار یورو مقرر کی گئی ہے

یونیڈو 100 فیصد فنانسنگ کے بجائے مشترکہ فنانسنگ فراہم کرتا ہے تاکہ کاروبار کے مالکان مساوی یا اس سے زائد رقم خود لگا کر منصوبے کے حوالے سے سنجیدہ اور پائیدار رہیں۔

یہ پروگرام دیہی سندھ کے پانچ اہم اضلاع ٹھٹھہ، بدین، سجاول، تھرپارکر اور لاڑکانہ میں نافذ العمل ہے۔

سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ  کے چیف ایگزیکٹو افسر خضر پرویز کے مطابق چوتھے مرحلے کے لیے اہم شرائط اور دائرہ کار درج ذیل ہے سیڈف کی جانب سے نئی درخواستیں 15 ستمبر 2026ء تک وصول کی جائیں گی

یونیڈو اور سیڈف مشترکہ طور پر اہل منصوبوں کی لاگت کا 70 فیصد تک برداشت کریں گے، جبکہ 30 فیصد لاگت کا بندوبست درخواست دہندہ کو خود کرنا ہوگا۔

چوتھے مرحلے میں 20 ایس ایم ایز کو 70 کروڑ سے 1 ارب روپے تک کی گرانٹس دی جائیں گی، جہاں فی منصوبہ زیادہ سے زیادہ حد 3 کروڑ 50 لاکھ روپے ہے۔

گرانٹس ماہی گیری و آبی زراعت، آئی ٹی، تحقیق و ترقی، کچرے کی ری سائیکلنگ اور بائیو ویسٹ کے مؤثر استعمال کے شعبوں کو دی جائیں گی، جبکہ خواتین کی زیرِ قیادت قائم اداروں کو تمام شعبوں میں خصوصی ترجیح دی جائے گی

وزیراعلیٰ سندھ کے خصوصی معاون سید قاسم نوید قمر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مائیکرو اور چھوٹے کاروباری ادارے دیہی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت صوبائی وسائل کو بروئے کار لا کر دیہی معیشت کو وسعت دینے اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔