ریلوے ورکرز یونین کا ریفرنڈم کا فوری مطالبہ

رپورٹ اسامہ قذافی

پاکستان ریلوے کے محنت کشوں کی نمائندہ تنظیموں نے ریلوے کی موجودہ انتظامیہ اور وفاقی وزیرِ ریلوے کی پالیسیوں کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے موجودہ وزیرِ ریلوے کو عہدے سے ہٹانے، حالیہ ٹرین حادثات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور کارکنوں کی نمائندہ یونین کے انتخاب کے لیے فوری ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزدور رہنماؤں نے ریلوے ملازمین کے حقوق کی فوری بحالی اور مزدور تنظیموں پر عائد مبینہ پابندیوں کو ختم کرنے پر زور دیا ریلوے مزدوروں کی قیادت کی جانب سے سامنے آنے والے اہم مطالباتی خد و خال کےمطابق ریلوے ورکرز الائنس اور اتحاد کا اعلان سامنے ایا ہے

مزدوروں کے حقوق کی بحالی کے لیے کئی اہم سیاسی اور مزدور تنظیمیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو گئی ہیں ریلوے ورکرز یونین کے مرکزی اطلاعاتی سیکرٹری مبارک حسین، پاکستان مزدور محاذ کے جنرل سیکرٹری شوکت علی چوہدری، اور پاکستان انقلابی پارٹی اسلام آباد کے چیف آرگنائزر ملک جواد، جنرل سیکرٹری علی ناصر اور ڈاکٹر سعیدی عباسی نے واضح کیا کہ ریلوے مزدور محاذ، پاکستان انقلابی پارٹی اور ریلوے ورکرز یونین اوپن لائن ریلوے ورکرز کے حقوق کی خاطر مکمل طور پر متحد ہیں

مزدور رہنماؤں نے اعلان کیا کہ یہ تمام تنظیمیں ‘یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن’ کا حصہ بن کر ریلوے ملازمین کی فلاح و بہبود اور سلب شدہ حقوق کی بحالی کے لیے عملی و منظم جدوجہد کریں گی۔

مزدور رہنماؤں نے حالیہ عرصے میں پیش آنے والے ریلوے حادثات اور ادارے کی انتظامی حالت پر شدید تشویش کا اظہار کیا یونین نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرین حادثات کی اصلی اور واقعی وجوہات جاننے کے لیے آزاد اور غیر جانبدار تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں تاکہ ذمے داروں کا تعین ممکن ہو سکے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ وزیرِ ریلوے کے دورِ حکومت میں پیش آنے والے تمام حادثات کی تفصیلات، ادارے کی حاصل کردہ آمدنی اور ہونے والے مالی خسارے کے تمام حقائق عوام کے سامنے پیش کیے جائیں

اجلاس کے دوران مزدور رہنماؤں نے ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی قیمتی اراضی کی مبینہ بے توجہی اور عدم توجہی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک بھر میں ریلوے کی لاکھوں ایکڑ اراضی انتظامی غفلت کا شکار ہے، جبکہ ملازمین کو ان کے بنیادی حقوق اور سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے

رہنماؤں نے واضح کیا کہ ادارے میں پائیدار اصلاحات اور مزدوروں کی حقیقی آواز ایوانوں تک پہنچانے کا واحد حل یہ ہے کہ مزدور تنظیموں پر نافذ رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے اور شفاف طریقے سے فوری ریفرنڈم کرا کے قانون کے مطابق نمائندہ یونین کا انتخاب عمل میں لایا جائے۔