نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان کا محنت کش اتحاد سے تقسیم کے ہر منصوبے کو ناکام بنانے کا اعلان
رپورٹ ، امیر صدیقی
پاکستان میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران، گرانی، روزگار کے غیر یقینی حالات اور وفاق کی تاریخی اکائیوں کی تقسیم کے خدشات کے پیشِ نظر مزدور تنظیموں نے یکجا ہو کر جدوجہد تیز کرنے کا اعلان کیا ہے
نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان سے ملحقہ صنعتی یونینز کے نمائندوں کا ایک اہم اجلاس فیڈریشن کے دفتر میں کامریڈ گل رحمان کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورتِ حال، محنت کشوں کو درپیش چیلنجز اور تنظیمی حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا

اجلاس میں شرکاء نے متفقہ طور پر موجودہ حکمرانوں کی معاشی و سیاسی پالیسیوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے محنت کش طبقے کی زندگی کو بدتر بنا دیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک کو سامراجی مالیاتی اداروں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی شرائط پر گروی رکھ دیا گیا ہے، جس کا براہِ راست اثر عام مزدور اور ان کے اہلخانہ پر پڑ رہا ہے۔
اجلاس نے عزم ظاہر کیا کہ ماضی کی طرح ان عوام دشمن اور مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف گلی محلوں اور صنعتی علاقوں میں بھرپور مزاحمت جاری رکھی جائے گی اور محنت کشوں کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا
نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے رہنماؤں نے نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل کے نام پر اٹھائے جانے والے اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اجلاس میں موقف اختیار کیا گیا کہ یہ اقدامات محنت کش عوام کو حقیقی مسائل سے گمراہ کرنے اور انہیں تقسیم کرنے کی ایک گھناؤنی سازش کا حصہ ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ وفاقِ پاکستان کو وجود میں لانے والی تاریخی اکائیوں کی شناخت کو مٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے ملک میں شدید سیاسی و سماجی بحران جنم لے سکتا ہے
سندھ اور دیگر صوبوں کے محنت کش اپنے طبقاتی اتحاد کی قوت سے اس وفاق دشمن منصوبے کو ناکام بنائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور جموں و کشمیر کے بعد نسبتاً پُرامن علاقوں میں نئی
تقسیم سے بے چینی بڑھے گی

اجلاس کے دوران ملک کے اصل معاشی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا کہ اس وقت بنیادی مسئلہ وسائل پر بالادست طبقات کا قبضہ، غیر پیداواری اخراجات، بے لگام بدعنوانی اور جمہوری آزادیوں کی سلبی ہے۔
رہنماؤں نے نشاندہی کی کہ بجلی، گیس، پیٹرول، ادویات اور بنیادی خوراک کی قیمتوں نے محنت کشوں کے لیے زندگی اجیرن کر دی ہےصنعتی ادارے مزدوروں کے لیے مذبح خانے بن چکے ہیں، جہاں تحفظ کے بنیادی انتظامات ناپید ہیں اجرتوں، سوشل سیکیورٹی، پنشن اور بونسز کی مد میں کھربوں روپے سرمایہ دار ہضم کر رہے ہیں، جبکہ یونین سازی اور اجتماعی سوداکاری کے حقوق غصب کر لیے گئے ہیں جبکہ کھیتوں میں کام کرنے والے ہاری اور کسان غلامانہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں
نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان نے اپنے عزم کو دہرایا کہ وہ مزدوروں کو مذہبی، نسلی، لسانی، علاقائی یا صنفی بنیادوں پر تقسیم کرنے والی ہر کوشش کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہے گی۔
اجلاس کے اختتام پر ملک بھر کے محنت کشوں، بالخصوص صنعتی و زرعی مزدوروں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے طبقاتی اتحاد کو مضبوط کریں اور عوامی یکجہتی کے ذریعے اپنے حقوق اور ملک کی پائیدار بقا کی جنگ لڑیں۔