ای او بی آئی کا کم از کم اجرت کی بنیاد پر نیا کنٹریبیوشن نوٹیفکیشن جاری، پنشن میں ناانصافی پر مزدوروں کا احتجاج

کراچی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک ) ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محمد امین کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، حکومت کی جانب سے غیر ہنر مند ملازمین کی کم از کم ماہانہ اجرت 40,700 روپے مقرر کرنے کے بعد آجر اور ملازم کا ماہانہ کنٹریبیوشن طے کر دیا گیا ہے

نئے فارمولے کے تحت آجر 5 فیصد یعنی 2,035 روپے اور ملازم اپنی تنخواہ سے 1 فیصد یعنی 407 روپے ماہانہ ادارے کو جمع کروائے گا۔

تاہم مزدور رہنماؤں نے اس نوٹیفکیشن پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب کنٹریبیوشن کم از کم اجرت کی بنیاد پر وصول کیا جا رہا ہے تو ریٹائرڈ مزدوروں کو کم از کم اجرت کے مساوی پنشن کیوں نہیں دی جا رہی؟

رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس وقت ریٹائرڈ محنت کشوں کو محض 11,500 روپے پنشن دی جا رہی ہے جو سراسر دوہرا معیار اور ناانصافی ہے

انہوں نے واضح کیا کہ یہ صرف موجودہ ریٹائرڈ افراد کا نہیں بلکہ ہر آنے والے مزدور کے مستقبل کا مسئلہ ہے اور جب تک تمام محنت کش متحد ہو کر منظم احتجاج نہیں کریں گے، ادارے کے افسران کی مراعات کے مقابلے میں مزدوروں کا یہ درپیش معاشی استحصال ختم نہیں ہوگا۔