کیا سوشل سیکیورٹی سندھ کے ہر مزدور تک پہنچ پائے گی؟
راحب سمیجو
پاکستان کی صنعتی تاریخ اور مزدور تحریکوں میں سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کا کردار ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے۔ تاہم، پچھلی سات دہائیوں سے اس ادارے کا دائرۂ کار، سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر زیادہ تر کراچی اور اس کے گرد و نواح تک ہی محدود نظر آتا تھا
70 برسوں سے قائم اس انتظامی عدم توازن کے باعث اندرونِ سندھ کے محنت کش بنیادی سوشل سیکیورٹی، معاوضہ جات اور معیاری طبی علاج کے لیے مسلسل جدوجہد اور طویل سفر کرنے پر مجبور رہے۔
حال ہی میں سیسی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ 13 اگست 2026ء کے ایک اہم نوٹیفکیشن کے تحت گھوٹکی، لاڑکانہ اور شہید بینظیر آباد نواب شاہ میں تین نئے لوکل ڈائریکٹوریٹس قائم کرنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے اس پیشرفت کو مزدور رہنماؤں اور لیبر تنظیموں کی جانب سے ایک تاریخی اقدام قرار دیا جا رہا ہے
جس کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا واقعی سیسی اب صرف صوبائی دارالحکومت کے بجائے پورے سندھ کے مزدوروں کی سیکیورٹی بننے کی طرف گامزن ہے
اگر سیسی کے ماضی کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ کراچی جیسے بڑے صنعتی شہر میں ادارے کے تقریباً 10 ڈائریکٹوریٹس قائم تھے، جہاں لاکھوں صنعتی ورکرز کو مختلف سہولیات فراہم کی جاتی رہیں۔ اس کے برعکس، کراچی سے باہر پورے اندرونِ سندھ کے وسیع و عریض علاقے کو محض چند محدود دفاتر کے ذریعے چلایا جا رہا تھا
اس صورتحال کا سب سے بڑا نقصان اندرونِ سندھ کے سیکیورڈ ورکرز کو اٹھانا پڑا۔ مثال کے طور پر، لاڑکانہ یا اس کے گرد و نواح کے کسی مزدور کو ادارے سے متعلق اپنے کسی معمولی نوعیت کے انتظامی یا مالی معاملے، کارڈ کی درستگی یا ڈیتھ و میرج گرانٹ کی کارروائی کے لیے بھی سکھر یا ڈائریکٹوریٹ کے دیگر دور دراز دفاتر کے چکر لگانے پڑتے تھے
ایک عام مزدور، جو روزانہ کی اجرت پر کام کرتا ہے، اپنے بنیادی حق کی وصولی کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کرنے اور کرائے کے اخراجات برداشت کرنے پر مجبور تھا
اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مہران لیبر فیڈریشن پاکستان کے رہنماؤں اور دیگر ٹریڈ یونین نمائندگان نے اسے اپنی دیرینہ جدوجہد اور بنیادی مطالبے کی کامیابی قرار دیا ہے
لیبر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جہاں سندھ کا مزدوروہاں سیسی کا دفتر کا اصول ہی حقیقی سوشل سیکیورٹی کا ضامن بن سکتا ہے
تاہم مزدور تنظیموں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ یہ پیشرفت صرف کاغذی حد تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اب اصل امتحان عملدرآمد کا ہے۔ فیڈریشنز کی جانب سے درج ذیل اہم نقطہ ہائے نظر اور مطالبات سامنے آئے ہیں
نئے قائم کردہ تینوں ڈائریکٹوریٹس (گھوٹکی، لاڑکانہ، شہید بینظیر آباد) میں فوری طور پر مطلوبہ افسران، فیلڈ عملہ، آڈٹ، اکاؤنٹس اور بینیفٹ سیکشن کا باقاعدہ اور مکمل اسٹاف تعینات کیا جائے تاکہ مزدوروں کو دفتری چکروں سے نجات مل سکے
ڈائریکٹوریٹس کے قیام کے بعد اگلا سب سے بڑا مرحلہ طبی سہولیات کی فراہمی ہے۔ مزدور رہنماؤں نے وزیرِ محنت سندھ، کمشنر سیسی اور گورننگ باڈی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ نواب شاہ میں فوری طور پر ایک مکمل اور بڑا سوشل سیکیورٹی ہسپتال قائم کیا جائے۔
گھوٹکی اور ڈہرکی جیسے اہم صنعتی اور گیس و کھاد کی صنعتوں والے علاقوں میں، جہاں ہزاروں محنت کش شب و روز کام کرتے ہیں، ایک مکمل سیسی ہسپتال کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے تاکہ حادثات کی صورت میں ہنگامی طبی امداد مقامی سطح پر میسر آ سکے۔
نئے ڈائریکٹوریٹس کا قیام بلا شبہ نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط انتظامی ناانصافی کو دور کرنے کی جانب ایک مثبت شروعات ہے۔ مگر سندھ کے محنت کشوں کا اصل تحفظ اس وقت ممکن ہو سکے گا جب کراچی سے کشمور تک ہر سیکیورڈ ورکر کو اس کے گھر کی دہلیز پر معیاری علاج، بروقت مالی معاونت اور باوقار ماحول میسر آئے۔
سندھ حکومت اور سیسی انتظامیہ کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ ان نئے دفاتر کو کس قدر جلد اور مؤثر انداز میں فعال بناتے ہیں تاکہ اندرونِ سندھ کا مزدور بھی خود کو اس ادارے کا حقیقی حقدار سمجھ سکے۔
تعارف : راحب علی سمیجو پاکستان کی مزدور تحریک سے وابستہ ایک نمایاں لیبر رہنما اور مہران لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں میاں عبدالرحیم بھارو کے شانہ بشانہ مزدوروں کے حقوق کی جدوجہد میں متحرک رہتے ہیں سندھ بھر بالخصوص اور ملک بھر کے بالعموم صنعتی و زرعی محنت کشوں کے بنیادی و قانونی حقوق کی پاسداری کے لیے مسلسل آواز بلند کرتے رہے ہیں