ہاری کانفرنس کا ہاری کورٹس، اور ہاری کارڈ کا مطالبہ
رپورٹ ، ( احتشام شامی )
نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان سے منسلک سندھ ایگریکلچرل جنرل ورکرز یونین کے زیرِ اہتمام حیدرآباد کے ممتاز مرزا آڈیٹوریم میں ہاری کانفرنس کا انعقاد کیا گیا اس اہم اجلاس کی صدارت کامریڈ سبھاگی بھیل نے کی، جبکہ تقریب کی ابتدا شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام سے کی گئی

ہاری کانفرنس میں سندھ کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے ہاریوں، کسان رہنماؤں اور خاص طور پر خواتین زرعی ورکرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کامریڈ سبھاگی بھیل، لال بخش بالن، این ٹی یو ایف کے ناصر منصور، کامریڈ گل رحمان، فاطمہ لغاری، فیض کیریو اور دیگر رہنماؤں نے سندھ کے زرعی شعبے اور کاشتکاروں کی زبوں حالی پر گہری تشویش کا اظہار کیا

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی آبادی کا پیٹ پالنے والے ہاری اور کسان آج خود تین وقت کی روٹی سے محروم ہیں اور انتہائی سخت موسمی حالات اور استحصال کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
مقررین نے کہا کہ پانی کی شدید قلت، فصلوں کی کم قیمتیں، ایندھن اور کھاد، بیج و ادویات کی آسمان چھوتی قیمتوں نے چھوٹے کسانوں اور مزارعین کے لیے کھیتی باڑی کو معاشی طور پر ناممکن بنا دیا ہے
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت کی جانب سے کسانوں کے نام پر جاری کیے جانے والے مالیاتی ریلیف پیکجز کا فائدہ اصل ہاریوں کو نہیں ملتا، بلکہ مؤثر رجسٹریشن نہ ہونے کے باعث ان مراعات پر بااثر جاگیردار اور وڈیرے قابض ہو جاتے ہیں

کانفرنس میں زور دیا گیا کہ سندھ کے زرعی بحران کا حل معنی خیز اراضی اصلاحات میں مضمر ہے۔ جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کر کے سرکاری و اضافی زمینیں بے زمین ہاریوں میں تقسیم کی جائیں اور مزارعین کو بے دخلی کے خوف سے آزاد کر کے زمین پر ان کا حق تسلیم کیا جائے
اس کے علاوہ ہاریوں اور خواتین ورکرز کے خلاف اغوا، تشدد، غیر قانونی قبضوں اور جبر کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری نوٹس اور تحفظ کی اپیل کی گئی۔
رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سندھ انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2013 کی منظوری کے 13 سال گزرنے کے باوجود اس پر عملدرآمد نہیں ہو سکا، جس کے تحت زرعی مزدوروں کو یونین سازی اور سوشل سیکیوریٹی کا حق دیا گیا تھا۔

کانفرنس کے اختتام پر حکومت سے اہم مطالبات کے لیے متفقہ قراردادیں منظور کی گئیں جن میں کہا گیا کہ سوشل سیکیوریٹی کا حق 2013ء کا فوری اطلاق کر کے تمام کسانوں کو سیسی اور ای او بی آئی میں رجسٹرڈ کیا جائے اور ڈیتھ و میرج گرانٹس سمیت تعلیمی وظائف دیے جائیں
محکمۂ مالیات، لیبر ڈیپارٹمنٹ اور ہاری یونینز پر مشتمل ایک فورس کے ذریعے تمام ہاریوں اور خواتین زرعی ورکرز کا صوبائی لیول پر شفاف سروے کر کے ریکارڈ مرتب کیا جائے۔
لیبر کورٹس کی طرز پر ضلع کی سطح پر مخصوص ہاری کورٹس قائم کی جائیں اور امرا کے بجائے صرف حقیقی کاشتکاروں کو ہاری کارڈ جاری کیے جائیں۔ اس کے علاوہ قانون ساز اسمبلیوں میں کسانوں کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی جائیں

واٹر ایکارڈ کے تحت سندھ کے تاریخی آبی حقوق کی حفاظت کی جائے تمام متنازع کینال منصوبے منسوخ کیے جائیں اور ماحولیاتی تبدیلیوں، سیلاب و قحط سے متاثرہ کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج دیا جائے۔
مغوی پریا کماری سمیت دیگر تمام اغوا شدہ لڑکیوں کو فوری بازیاب کرایا جائے اور ہاریوں کے گھروں اور اراضی پر قبضوں کی روک تھام کی جائے