ویتنام میں  اجرتوں پر 1999ء سے لگی پابندی کے خلاف محنت کشوں کی ملک گیر ہڑتال

ہو چی منہ سٹی ( لیبر نیوز ویب ڈیسک)  ویتنام کے صنعتی علاقوں اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز میں کام کرنے والے دسیوں ہزار محنت کشوں نے اجرتوں میں اضافے اور مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانے پر ہڑتال کر دی ہے۔ ورکرز کی اس ملک گیر احتجاجی لہر نے غیر ملکی سرمایہ کاری سے چلنے والی درجنوں کمپنیوں میں پیداواری عمل کو معطل کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے 1999ء سے مزدوروں کی بنیادی اجرتوں پر جمود طاری تھا، جس کے باعث ورکرز خطے کی کم ترین اجرتوں پر کام کرنے پر مجبور تھے۔ وزیراعظم نے وزارتِ منصوبہ بندی کو بحران کا فوری حل نکالنے کی ہدایت کی ہے

تاہم ورکرز نے واضح کیا ہے کہ 10 سال سے تعطل کا شکار تنخواہوں میں معقول اور فوری اضافہ کیے بغیر احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔