پی سی ایم کا کے الیکٹرک لیبر یونین کے ریفرنڈم میں انتظامی جبر کا الزام
رپورٹ ، محمد کامران
پاکستان کے سب سے بڑے صنعتی و تجارتی شہر کراچی میں بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے الیکٹرک میں سی بی اے ریفرنڈم کے موقع پر انتظامیہ کی مبینہ جانبداری، دباؤ، اور ہراسانی کے شدید الزامات سامنے آئے ہیں
انڈسٹری آل گلوبل یونین سے منسلک پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل، انرجی، مائنز اینڈ جنرل ورکرز یونین نے ریفرنڈم کے عمل کے دوران انتظامی مداخلت، شوکاز نوٹسز کی دھمکیوں اور مساوی موقع نہ دینے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے
پی سی ای ایم کے حکام کے مطابق کے الیکٹرک انتظامیہ کی جانب سے انصاف ایمپلائز یونین کے ای ایس سی کے ساتھ شدید امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، جس سے ریفرنڈم کے آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انعقاد پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں

کے الیکٹرک انتظامیہ کی جانب سے ایک مخصوص یونین کو کھلے عام اور بلا روک ٹوک انتخابی مہم چلانے کی مکمل آزادی دی گئی، جبکہ پی سی ای ایم سے منسلک انصاف ایمپلائز یونین کے نمائندگان کو ورکرز سے ملاقات، گیٹ میٹنگز اور اپنا منشور محنت کشوں تک پہنچانے سے یکسر روکا گیا
اس کے علاوہ انتظامیہ پر یہ سنگین الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ محنت کشوں پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا گیا کہ وہ انصاف ایمپلائز یونین کے پولنگ ایجنٹ کے طور پر ذمہ داریاں ادا نہ کریں۔ کارکنوں کو پولنگ ایجنٹ بننے کی صورت میں شوکاز نوٹسز، انتظامی کارروائیوں اور نوکریوں سے برطرفی جیسی دھمکیاں دی گئیں، جسے پی سی ای ایم نے براہِ راست ہراسانی اور انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا۔
پی سی ای ایم کے مرکزی صدر محمد سلیم نے کے الیکٹرک کے بلدیہ پولنگ اسٹیشن کا خود دورہ کیا اور وہاں جاری پولنگ کے عمل کا جائزہ لیا۔ دورے کے بعد انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ پولنگ اسٹیشنز پر شدید انتظامی بے قاعدگیاں اور دھاندلی کے شواہد دیکھے گئے ہیں

ان کا کہنا تھا کہ انصاف ایمپلائز یونین پھول گروپ کے قانوناً مقرر کردہ پولنگ ایجنٹ کو پولنگ بوتھ کے اندر بیٹھنے اور انتخابی عمل کی نگرانی کرنے سے روک دیا گیا، جو کہ ریفرنڈم کی شفافیت پر گہرا داغ ہے۔
پی سی ای ایم نے واضح کیا کہ کسی بھی ادارے میں ورکرز کو اپنی پسند کی تنظیم کا انتخاب کرنے سے روکنا یا انتقامی کارروائی کا خوف دلانا بین الاقوامی قوانین اور آئینِ پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام بین الاقوامی ادارہ محنت کے کنونشن نمبر 87 (آزادیٔ انجمن) اور کنونشن نمبر 98 اجتماعی سودے کاری اور تنظیم سازی کا حق کے علاوہ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 17 کے تحت ملنے والے بنیادی حقوق کی شدید پامالی ہے
پی سی ای ایم نے کے الیکٹرک انتظامیہ اور چیئرمین نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ فیڈریشن نے درج ذیل مطالبات پیش کیے ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ تمام حصہ لینے والی یونینز کو یکساں اور مساوی انتخابی حقوق اور ماحول فراہم کیا جائے انصاف ایمپلائز یونین کو بلا خوف و خطر مہم اور گیٹ میٹنگز کی مکمل اجازت دی جائے پولنگ ایجنٹس بننے والے ورکرز کو تمام تر انتظامی و انتقامی کارروائیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے کے الیکٹرک انتظامیہ مکمل طور پر غیر جانبدار رہے اور انتخابی عمل میں مداخلت سے باز رہے۔
پی سی ای ایم کے رہنماؤں نے عزم کا اظہار کیا کہ مزدور کا ووٹ اس کا بنیادی جمہوری حق ہے اور کسی بھی صورت میں کے الیکٹرک کے محنت کشوں کے حقوق اور جمہوری عمل پر معاشی و انتظامی جبر کو قبول نہیں کیا جائے گا۔