پاکستان میں وزارت محنت نسل در نسل چائلڈ لیبر کے جال کو توڑنے میں ناکام

رپورٹ ، مدثر خان

پاکستان میں چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خاتمے کے بلند و بانگ سرکاری دعووں اور متعدد قوانین کی موجودگی کے باوجود، ملک بھر میں اینٹوں کے بھٹوں پر معصوم بچوں کا بدترین معاشی و جسمانی استحصال بلا روک ٹوک جاری ہے

تپتے ہوئے بھٹوں پر پگھلتی زندگیوں کی کہانی نئی نہیں، مگر اس جدید دور میں بھی معصوم بچے اپنے والدین کے ساتھ صبح کے اندھیرے سے لے کر رات گئے تک، بغیر کسی وقفے کے، طویل اور کٹھن گھنٹوں تک مٹی گوندھنے اور اینٹیں تھاپنے پر مجبور ہیں۔

اس بھیانک ظلم اور غلامی کی سب سے بڑی وجہ بھٹہ مالکان اور ٹھیکیداروں کا وہ روایتی خاندانی قرضہ ہے جسے مقامی زبان میں پیشگی کہا جاتا ہے یہ قرضہ نسل در نسل منتقل ہوتا رہتا ہے اور ایک لامتناہی دلدل بن جاتا ہے

بیشتر معاملات میں محنت کش خاندانوں نے دہائیوں پہلے کسی طبی ہنگامی صورتحال، حادثے یا شادی بیاہ کے لیے محض 30 ہزار روپے کا معمولی قرضہ لیا تھا

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، ملک میں بڑھتی ہوئی بے لگام مہنگائی اور ٹھیکیداروں کی جانب سے لگائے جانے والے بھاری سود کے باعث یہ معمولی رقم آج لاکھوں روپے میں تبدیل ہو چکی ہے۔

ظالم اور بااثر بھٹہ ٹھیکیدار ان غریب، بے بس اور ان پڑھ مزدوروں کی مجبوری اور ناخواندگی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں

وہ حساب کتاب میں ہیر پھیر کر کے ان سادہ لوح محنت کشوں کو ہمیشہ اس وہم اور خوف میں مبتلا رکھتے ہیں کہ ان کی جانب ابھی بھاری رقم واجب الادا ہے جسے چکائے بغیر وہ یہ جگہ چھوڑ کر نہیں جا سکتے۔ یوں یہ ایک ایسا لامتناہی چکر بن جاتا ہے جہاں دادا کا لیا ہوا قرضہ پوتا چکا رہا ہوتا ہے، اور بے بسی و غربت کا یہ موروثی عذاب اگلی نسل کو منتقل ہو جاتا ہے

اس پورے نظام کی سب سے بڑی ستم ظریفی اور المیہ یہ ہے کہ یہ معصوم بچے جن اینٹوں کو اپنے ننھے ہاتھوں سے بناتے ہیں، ان سے ملک بھر میں شاندار تعلیمی ادارے، اسکول اور کالج تو تعمیر ہو جاتے ہیں مگر یہ خود کبھی ان اسکولوں کی دہلیز پار نہیں کر پاتے

یہ بچے بنیادی انسانی حقوق، صحت کی سہولیات اور بچپن کی معصومیت سے یکسر محروم ہیں۔ قانوناً، پاکستان میں چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خلاف انتہائی سخت قوانین بانڈڈ لیبر سسٹم ابولیشن ایکٹ موجود ہیں

لیکن تلخ زمینی حقیقت یہ ہے کہ بااثر بھٹہ مافیا کے سامنے یہ قوانین بے اثر دکھائی دیتے ہیں۔ اب تک کسی بڑے بھٹہ مالک یا قانون شکن ٹھیکیدار کو چائلڈ لیبر کے جرم میں عبرت ناک سزا یا گرفتاری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

مظلوم اور محروم طبقے کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور متاثرہ مزدوروں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ صرف کاغذی کارروائیوں کے بجائے اس استحصال کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کیے جائیں

انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایک بااختیار قومی ٹاسک فورس قائم کی جائے جو پولیس چھاپوں، عدالتی احتساب اور بھٹہ مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنائے ساتھ ہی، ان مظلوم بچوں کو بھٹوں سے نکال کر اسکولوں میں داخل کرانے اور ان کے خاندانوں کو اس موروثی قرضے کے جال سے نجات دلانے کے لیے ٹھوس پیکیج کا اعلان کیا جائے، تاکہ ملک کے مستقبل کو اس جدید غلامی سے بچایا جا سکے۔