نیشنل لیبر کانفرنس،مزدور رہنما رضوان علی بھٹو کا ای او بی آئی میں کرپشن اور مزدوروں کے استحصال پر تشویش کا اظہار

اسلام آباد ( لیبر نیوز ویب ڈیسک ) نیشنل لیبر کانفرنس میں سندھ کے صنعتی شہر دہرکی سے تعلق رکھنے والے ممتاز مزدور رہنما رضوان علی بھٹو نے خصوصی شرکت کی اور محنت کشوں کے حقوق کے حوالے سے اپنا بھرپور مؤقف بیان کیا

اینگرو فرٹیلائزر سی بی اے یونین اور ڈسٹرکٹ لیبر بورڈ کے جنرل سیکریٹری رضوان علی بھٹو نے سندھ میں ایمپلائز اولڈ ایج بینی فٹس انسٹی ٹیوشن  کی کارکردگی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارہ سفارشی کلچر کا گڑھ بن چکا ہے جہاں لیبر رہنماؤں کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔

انہوں نے صنعتی ملازمین کے تحفظ، اجرتوں میں اضافے اور لیبر قوانین کے مؤثر نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔ کانفرنس میں ملک بھر سے آئے ہوئے دیگر ٹریڈ یونین رہنماؤں نے بھی شرکت کی، جہاں رضوان علی بھٹو کے مؤقف کو سراہا گیا اور مزدور تحریک کو متحد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ کمپنیوں اور کنٹریکٹرز کی جانب سے محنت کشوں کی تنخواہوں سے ای او بی آئی فنڈ کی کٹوتیاں تو باقاعدگی سے کی جاتی ہیں، مگر اسے مروجہ طریقہ کار کے تحت جمع نہیں کرایا جاتا۔ اگر کسی کارخانے میں 500 ورکرز ہوں، تو وہاں محض ڈیڑھ یا دو سو ملازمین کی لم سم لسٹ بھیجی جاتی ہے اور کسی کا انفرادی نام شامل نہیں ہوتا

اس سنگین غفلت کے باعث دورانِ ملازمت وفات پا جانے والے یا ریٹائرڈ ورکرز کے خاندانوں کو پینشن اور دیگر واجبات کی ادائیگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے

مزدور رہنما رضوان بھٹو نے مزید متبادل ٹرانسپورٹیشن اور شپمنٹ کے طریقوں کے باعث فرٹیلائزر سیکٹر کے ہزاروں مزدوروں کے بیروزگار ہونے کے خدشات کا بھی اظہار بھی کیا