سیسی میں مبینہ جعلی بھرتیوں اور مستقلی کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ

کراچی( لیبر نیوز ویب ڈیسک )  سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) میں سابق وزراء اور نگراں دورِ حکومت میں ہونے والی مبینہ جعلی بھرتیوں اور افسران کو مستقل کیے جانے کے معاملات پر تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

ڈائریکٹر سیسی نادر حسین کناسرو نے کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو کو لکھے گئے خط میں انکشاف کیا ہے کہ سال 2005 میں سابق وزیر کی خواہش پر 8 ملازمین کو ایڈہاک بنیادوں پر بھرتی کیا گیا

جنہیں بعد میں مستقل کر کے عہدے دیے گئے۔ ان میں سوشل سیکیورٹی آفیسر وسیم جمال، عقیل خرم اور جونیئر کلرک اطہر حسین شامل ہیں۔ خط میں ان بھرتیوں کے اشتہار، تعلیمی قابلیت اور سلیکشن کمیٹی کے وجود پر سوال اٹھاتے ہوئے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی سفارش کی گئی ہے

دوسری جانب چیئرمین سیسی ایمپلائز ویلفیئر ایسوسی ایشن نے بھی نگراں دور میں گریڈ 16 کے 14 افسران کی کنٹریکٹ پر بھرتی اور بعد میں بغیر اشتہار و مقابلے کے ان کی ریگولرائزیشن کی شفاف انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے وزیرِ محنت سے اپیل کی کہ چیف منسٹر انکوائری کمیٹی کی طرز پر اس پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ کرائی جائے۔