محکمہ ای او بی آئی کرپشن کی اماجگاہ ہے ؟
قاضی تحسین احمد ہاشمی
ملازمین کی عمر کے فوائد کی تنظیم ای او بی آئی جو 1976 میں پرائیویٹ سیکٹر کے محنت کشوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی، آج اپنے اصل مقصد سے یکسر منحرف ہو چکی ہے
یہ ادارہ جو بوڑھوں اور بے سہاروں کا محافظ بن کر آیا تھا، افسوس کہ اب کرپشن، بدعنوانی اور غریب پنشنرز کا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے. اس ادارے کی داستانیں پاکستان کی تاریخ کے بدترین معاشی اسکینڈلز میں شمار ہوتی ہیں.
اس محکمے کی تاریخ میں سابق وفاقی وزیر عمر اصغر کا کیس ایک بڑا المیہ ہے. مئی 2002 میں کراچی میں مشکوک حالات میں ان کی وفات ہوئی، جسے پولیس نے خودکشی قرار دیا، مگر قریبی ذرائع اس کی تردید کرتے ہیں
عمر اصغر ای او بی آئی کے 100 ملین ڈالر سے زائد کے لاپتہ پنشن فنڈز کے کیس میں ایک اہم گواہ تھے. ان کی موت سے قبل فنڈز کی منتقلی کا ذمہ دار اکاؤنٹنٹ بھی مبینہ خودکشی کر چکا تھا. اس غبن کے خلاف ان کے والد کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست کا فیصلہ 24 سال گزرنے کے باوجود آج تک نہ ہو سکا
اسی طرح ای او بی آئی جائیداد کرپشن کیس 2013 سے عدالتوں میں لٹکا ہوا ہے. سپریم کورٹ کے ازخود نوٹس کے مطابق، ادارے نے 18 جائیدادیں اصل مارکیٹ ویلیو سے کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدیں فروری 2026 تک ای او بی آئی کا سرمایہ کاری پورٹ فولیو 700 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے
جس کا 85.58 فیصد فکسڈ انکم آلات اور 8.46 فیصد ریئل اسٹیٹ میں ہے. مثال کے طور پر، لاہور کے مال روڈ پر ایک پلاٹ 54 کروڑ روپے کی اصل قیمت کے بجائے 79 کروڑ روپے میں خریدا گیا. اس کے علاوہ ڈی ایچ اے اسلام آباد، ڈی ایچ اے راولپنڈی اور بحریہ ٹاؤن کراچی میں اربوں روپے کی زمینوں کے متنازع سودے کیے گئے
میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق چیئرمین ظفر گوندل نے ایڈن گارڈن کے مالک ڈاکٹر امجد کے ساتھ مل کر اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھایا. اس کیس کے دوران سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے مبینہ طور پر اپنی بیٹی کی شادی ظفر گوندل کے بیٹے سے کر کے ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوا دیے جس کے بعد وہ ملک سے فرار ہو گئے.
ادارے کے 42 ریجنل دفاتر میں فیلڈ افسران کے بے پناہ اختیارات کا غلط استعمال غریب ورکرز کے استحصال کا باعث بن رہا ہے. ملک کی 7.5 کروڑ ورک فورس میں سے صرف 1.1 کروڑ رجسٹرڈ ہیں، اور ان میں سے بھی محض 3.28 ملین کا ماہانہ کنٹریبیوشن جمع ہوتا ہے
تلخ حقیقت یہ ہے کہ رجسٹرڈ افراد میں سے 40 فیصد پنشن کی عمر سے پہلے مر جاتے ہیں اور 30 فیصد کو گرانٹ دے کر فارغ کر دیا جاتا ہے. صرف 30 فیصد لوگ 60 سال کی عمر تک پہنچتے ہیں اور محض 5 سے 10 سال ہی زندہ رہ پاتے ہیں
سوال یہ ہے کہ ان کا 35 سے 40 سال کا کنٹریبیوشن کہاں جاتا ہے؟ پینشنرز کو دفتری ریکارڈ چیک نہ ہونے کا بہانہ بنا کر تنگ کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اکثریت اپنے حق سے دستبردار ہو جاتی ہے یا فارمولا پنشن کے بجائے منیمم پنشن اور معمولی گرانٹ پر ٹرخا دی جاتی ہے.
اگر ای او بی آئی ملک کی پوری 7.5 کروڑ ورک فورس کو رجسٹر کر لے تو یہ دنیا کا امیر ترین ادارہ بن سکتا ہے، اور ازبکستان کی طرز پر ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے نظام چلا کر سالانہ 2.7 ارب روپے کے انتظامی اخراجات بچائے جا سکتے ہیں
محکمے نے پینشنرز کو گمراہ کرنے کے لیے کچھ پاکٹ تنظیمیں بنا رکھی ہیں جن میں محکمے کے ریٹائرڈ افسران شامل ہیں.
ضرورت اس امر کی ہے کہ ای او بی آئی کے خلاف زیر التوا مقدمات کا فوری فیصلہ کیا جائے، تمام مزدوروں کی رجسٹریشن یقینی بنائی جائے اور نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، ورنہ پاکستان کا محنت کش طبقہ ہمیشہ اپنے بنیادی حق سے محروم رہے گا
تعارف:قاضی تحسین احمد ہاشمی پاکستان کے ممتاز تجزیہ کار، کالم نگار اور مزدور امور کے ماہر ہیں۔ وہ طویل عرصے سے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر محنت کشوں کے حقوق، صنعتی تعلقات اور طبقاتی نظام پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں سماجی و معاشی ناانصافیوں کے خلاف محنت کش طبقے میں شعور بیدار کرنے اور لیبر قوانین کے مؤثر نفاذ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی ہیں۔ وہ اپنے منفرد اور فکری اندازِ تحریر کے باعث ادبی اور صنعتی حلقوں میں یکساں مقبول ہیں