آئی پی پیز کا بوجھ اور مزدور کو سزا

عارف روہیلہ

پاکستان کا معاشی ڈھانچہ ایک ایسے دوغلے پن کا شکار ہو چکا ہے جہاں بوجھ اٹھانے والا کوئی اور ہے اور اس کے ثمرات سمیٹنے والا کوئی اور۔ اس ملک میں غریب، جو دو وقت کی روٹی کے لیے بھی محنت مزدوری کا محتاج ہے، ہر قدم پر ٹیکس دیتا ہے۔

 پانی کا بل ہو، بجلی کا جھٹکا، موبائل کا ری چارج، پیٹرول کی قیمت یا آٹے کی تھیلی ہر بنیادی ضرورت پر کسی نہ کسی شکل میں ٹیکس لاگو ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ بھاری ٹیکس دینے کے باوجود عام پاکستانی اپنے بچوں کی تعلیم، علاج اور باعزت زندگی کی بنیادی سہولیات سے یکسر محروم اور پریشان حال ہے

دوسری طرف، اس نظام کو چلانے والی اور اس سے فائدہ اٹھانے والی اشرافیہ کی زندگی پر نظر ڈالیں تو ایک بالکل الگ پاکستان نظر آتا ہے۔

سرکاری پروٹوکول، چمکتی دمکتی لگژری گاڑیاں، مفت پیٹرول، مفت بجلی، مفت گیس، عالیشان سرکاری رہائش گاہیں، غیر ملکی دورے، بھاری تنخواہیں اور کروڑوں روپے کی دیگر مراعات۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بھاری پنشنیں اور سرکاری خزانے پر بے شمار اخراجات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔

حالیہ برسوں میں جب ملک شدید معاشی بحران سے گزر رہا تھا، عوام پر تو ٹیکسوں کی بھرمار کر دی گئی، مگر اعلیٰ سرکاری عہدوں پر بیٹھے لوگوں اور منتخب نمائندوں کی مراعات اور پرتعیش اخراجات میں کوئی نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ قربانی کا یہ تصور صرف غریب تک ہی محدود رہا۔

اس جاری معاشی ظلم میں جلتی پر تیل کا کام مہنگے نجی بجلی گھروں آئی پی پیز کے معاہدوں نے کیا۔ ان غلط اور یکطرفہ معاہدوں کا پورا بوجھ بھی براہِ راست عوام کی جیبوں پر ڈال دیا گیا۔

حکومت کے اپنے اعداد و شمار گواہ ہیں کہ صرف ‘کپیسٹی پیمنٹس بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کی قیمت کی مد میں نجی کمپنیوں کو ہزاروں ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں،

جبکہ توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ کئی کھرب روپے کی خوفناک سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اس کا خمیازہ عوام یوں بھگت رہے ہیں کہ اگر وہ بجلی استعمال نہ بھی کریں تب بھی انہیں بھاری فکسڈ چارجز ادا کرنے پڑتے ہیں۔ یہ دنیا کا شاید واحد نظام ہے جہاں نہ خریدی گئی چیز کی بھی پوری قیمت وصول کی جاتی ہے

یہاں یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ اگر ماضی میں ایسے استحصالی معاہدے کیے گئے جن سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچا، یا جن کی آڑ میں مخصوص لوگوں نے ناجائز مالی فائدے حاصل کیے، تو پھر ان کی اب تک کوئی آزادانہ تحقیقات کیوں نہیں ہوئیں؟

ان ذمہ داروں کا احتساب کیوں نہیں ہوتا جنہوں نے پورے ملک کو اس دلدل میں دھکیلا؟ آخر ہر بار نظام کی غلطیوں اور کرپشن کی قیمت صرف عوام ہی کیوں ادا کریں؟

حقیقی المیہ اور انسانیت سوز منظر یہ ہے کہ ایک عام مزدور بجلی کا بل بھرنے اور اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے اپنے معصوم بچوں کے حصے کا دودھ کم کر دیتا ہے،

جبکہ دوسری طرف اسی عوام کے خون پسینے کی کمائی سے اکٹھے ہونے والے ٹیکسز سے اشرافیہ کی آسائشوں، پروٹوکول اور شاہانہ طرزِ زندگی کا خرچ پورا کیا جاتا ہے۔

 یہ تضاد اب ناقابلِ برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ جب تک قومی وسائل کا بے لاگ حساب نہیں ہوگا، ان مہنگے اور مشکوک آئی پی پی معاہدوں کا شفاف آڈٹ نہیں کیا جائے گا اور اشرافیہ کے غیر ضروری اخراجات پر سخت قانونی گرفت نہیں ہوگی،

 تب تک اس ملک کے عام آدمی کی زندگی میں کوئی آسانی نہیں آ سکتی۔ معاشی انصاف کے بغیر کسی بھی ملک کا آگے بڑھنا ناممکن ہے

تعارف: عارف روہیلہ محنت کشوں کے حقوق کی جدوجہد میں طویل عرصے سے سرگرم ہیں اور مختلف فورمز پر مزدوروں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کی پہچان صنعتی تعلقات، لیبر قوانین کی پاسداری اور محنت کش طبقے کی فلاح و بہبود کے لیے ان کی انتھک اور اصولی جدوجہد ہے