نوٹس زدہ سسٹم

ناصر منصور

یہ ہے ہمارا صاف ستھرا اور پُرامن پنجاب جہاں کی انتظامیہ کو دیکھ کر لگتا یہی ہے کہ یہاں کوئی باقاعدہ سسٹم کام نہیں کرتا، بلکہ صرف اور صرف وزیراعلیٰ ہی ہر چھوٹے بڑے مسئلے کا واحد حل ہیں

جان لیجیے کہ اگر صدر، وزیراعظم، وزیراعلیٰ یا کسی بھی طاقت ور شخصیت کے نوٹس لینے پر ہی مخصوص واقعات پر شنوائی ہو رہی ہو، تو یہ کسی حکومت کے لیے فخر کی بات نہیں ہے۔ یہ اس بات کی واضح اور کھلی گواہی ہے کہ ریاست کا پورا سسٹم بیٹھ چکا ہے اور ادارے مفلوج ہو چکے ہیں۔

جس صوبے کو ایک آئیڈیل اور ماڈل بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے، وہاں کی حالتِ زار یہ ہے کہ دیہات اور قصبوں کو تو چھوڑیے، بڑے شہروں، میٹروپولیٹن علاقوں اور خود صوبائی دارالحکومت لاہور کے وسط میں گٹروں میں گر کر معصوم بچے غائب ہو جاتے ہیں

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے جڑے شہر راولپنڈی میں معصوم بچیاں اجتماعی زیادتی کے بعد بہیمانہ انداز میں قتل کر دی جاتی ہیں، اور راستہ چلتے بچے دن دیہاڑے اغوا ہو جاتے ہیں

المیہ تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قائم کی گئی فورس خود ہی قانون بن کر بے گناہ شہریوں، یہاں تک کہ معصوم بچیوں کو بھی گولیوں کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرتی۔

اب تو ایک گھناؤنے جرم کا کھرا خود وزیراعلیٰ کے اپنے خاندان تک جا پہنچا ہے ان کے خاندان کے ایک بڑے کے ہونہار سپوت پر دو خواتین کے اغوا اور جنسی زیادتی کا سنگین الزام عائد ہوا ہے

اس بار بھی کسی محکمے یا سسٹم نے خودکار طریقے سے حرکت نہیں کی، بلکہ ہمیشہ کی طرح جب وزیراعلیٰ نے خود نوٹس لیا، تو محبوس رکھی گئی دو غیر ملکی خواتین محض دو گھنٹوں کے اندر بازیاب ہو گئیں اور ملزمان کی گرفتاریاں بھی عمل میں آ گئیں

سسٹم کی ناکامی اور لاقانونیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ وقوعے کے بعد علاقے کے تھانہ دار نے ان طاقت ور ملزمان کی ایما پر معمول کے مطابق اس جج کے گھر پر ہی ہلہ بول دیا جو اس مقدمے کی سماعت کرنے جا رہا تھا۔ بعد میں جب وزیراعلیٰ کا نوٹس سامنے آیا تو اسی تھانہ دار اور اس کے عملے کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز ہوا

اگر اس واقعے پر شور نہ مچتا اور میڈیا میں بات نہ آتی، تو یہ سسٹم جیسے پہلے اثر و رسوخ کے تحت چل رہا تھا، ویسے ہی خاموشی سے کام کرتا رہتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عام آدمی کے لیے یہ کس طرح ممکن ہو کہ اس کے ساتھ ہونے والے ہر جرم کی خبر ان طاقت وروں تک پہنچے تاکہ اس کے لیے انصاف کے در وا ہو سکیں؟

اب تو عوام کو یقین ہو جانا چاہیے کہ ملک کا پورا سسٹم ایک مخصوص ٹھیکے پر چل رہا ہے۔ سیاسی جماعتوں نے عوامی سیاست کا اپنا اصل اکھاڑہ چھوڑ دیا ہے اور طاقتوروں کی غلامی کر کے اقتدار میں رہنے کا سبق ازبر کر لیا ہے

سیاسی مزاحمت، جو تمام تر نظریاتی اختلافات کے باوجود ماضی میں کئی ایک سیاسی جماعتوں کا خاصہ رہی تھی، آج اس سماج سے بالکل عنقا ہو چکی ہے

اب سیاسی جماعتوں کے تنظیمی اجلاس، سیاسی کارکنوں کی فکری تربیت، نچلی سطح پر تنظیم سازی اور عوام سے رابطہ کاری جیسے بنیادی جمہوری کام فضول اور متروک عمل ٹھہرے ہیں۔ عوام کی نبض جاننے کی ریت و روایت دم توڑ چکی ہے اور اب صرف انتظامی کارندے ہی حکمرانوں کی آنکھ اور کان بنے ہوئے ہیں۔

سماج کو عوامی امنگوں کے بجائے محض ایک سرد انتظامی سوچ کے ساتھ چلانے کے نتیجے میں ملک کے اندر ایک خوف ناک اور غیر سیاسی ماحول جنم لے رہا ہے

اب اس نئی انتظامی اسکیم کے عملی خدوخال بالکل واضح ہو چکے ہیں کہ ملک کو سیاسی جماعتیں عوامی طاقت کی بنیاد پر نہیں چلائیں گی، بلکہ کسی مخصوص شخص یا گروہ کی انفرادی انتظامی صلاحیتوں کی بنیاد پر ہانکا جائے گا۔

پشت پر ٹھیکہ دینے والے اور سامنے اقتدار کے ٹھیکے دار مختلف اشکال میں انتظامی امور کی انجام دہی کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کی مرضی کا نظم و نسق قائم رکھو تو اقتداری ٹھیکہ برقرار رہتا ہے، اور انتخابی رسوم کی ادائیگی بھی عین ان کی منشا کے مطابق کر دی جاتی ہے۔

سیاسی جماعتوں نے بھی اب یہ طے کر لیا ہے کہ جب اس نئی اسکیم کے مطابق اقتداری ٹھیکہ عطا کرنے والوں کی حمایت ہی سب کچھ ہے، تو پھر عوام سے قریبی تعلق کی ضرورت ہی کیا ہے؟

سو سیاسی جماعتوں نے اقتدار کی لالچ میں اپنی نظریاتی بنیادوں سے انحراف کی تمام حدیں پار کر لی ہیں۔ لیکن حکمران یاد رکھیں کہ آج کی اس مصنوعی ہم آہنگی کا صفحہ جب بھی پلٹا یا پھٹا تو پھر برے دنوں میں سڑکوں اور راستوں پر ان کی مدد کے لیے سیاسی کارکن ڈھونڈے سے بھی نہیں ملیں گے

تعارف : ناصر منصور پاکستان کی مزدور تحریک کے ایک ممتاز رہنما اور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن پاکستان  کے جنرل سیکرٹری ہیں، پاکستان کی مزدور تحریک کے ایک ممتاز رہنما اور بین الاقوامی لیبر قوانین کے ماہر ہیں، جو دہائیوں سے محنت کشوں کے حقوق اور سماجی انصاف کے لیے سرگرم عمل ہیں مزدوروں کی مبینہ ہراسانی کے خلاف آواز اٹھانا اور ہاریوں کے معاشی استحصال کے خلاف ملکی اور بین الاقوامی سطح پر آواز بلند کرنا انکی اولین پہچان ہے